السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كراهية السؤال والترغيب في تركه باب: سوال کرنے کی کراہت اور اسے ترک کرنے کی ترغیب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ، أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَيَّ، وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةٌ أَوْ ثَمَانِيَةٌ أَوْ سَبْعَةٌ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " وَكُنَّا حَدِيثِي عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ، فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ " فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا وَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ قَالَ: " عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا، وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا، فَلَقَدْ كَانَ بَعْضُ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ "، لَفْظُ حَدِيثِ الْحَافِظِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ شَبِيبٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيِّ.سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس نو، آٹھ، یا سات افراد تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول ﷺ کی بیعت نہیں کرو گے؟“ اور ہم بیعت کرنے والوں میں نئے نئے تھے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ ﷺ کی بیعت کر لی ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول ﷺ کی بیعت نہیں کرو گے؟“ تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے بیعت کر لی ہے۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول کی بیعت نہیں کرو گے؟“ تو ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ ﷺ کی بیعت کر لی ہے، ہم کس بات پر بیعت کر لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ شرک نہیں کرو گے اور پانچ نمازیں پڑھو گے اور تم اطاعت کرو گے۔“ ایک بات آپ ﷺ نے آہستہ سے کہی: ”اور تم لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے۔“ البتہ اگر جماعت میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو وہ کسی کو پکڑانے کے لیے بھی نہ کہتا۔