کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس شخص کو صدقہ دیا گیا ہو، اسی کے ہاتھ سے اپنا صدقہ کیا ہوا مال خریدنے کی کراہت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، فَقَالَ زَيْدٌ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْتَرِيهِ فَقَالَ: " لَا تَشْتَرِهِ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، میں نے دیکھا کہ اسے بیچا جا رہا ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: میں اسے خرید لوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے نہ خرید اور اپنے صدقہ میں نہ پلٹ۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَرَأَى شَيْئًا مِنْ نِتَاجِهِ يُبَاعُ فَأَرَادَ شِرَاءَهُ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا تَشْتَرِهِ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، پھر انہوں نے دیکھا کہ اس میں کچھ عیب ہے اور اسے فروخت کیا جا رہا ہے تو انہوں نے اسے خریدنا چاہا اور نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے نہ خرید اور اپنے صدقے میں نہ پلٹ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ عَتِيقٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ مِنْهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أَعْطَاكَ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيِّ عَنْ جَمَاعَةٍ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا: میں نے ایک عمدہ گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا تو اسے اس کے مالک نے بیکار کر دیا، میں نے چاہا کہ اسے اس سے خرید لوں اور میرا خیال تھا کہ وہ مجھے کم قیمت میں مل جائے گا، تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ ایک درہم کا بھی دے تو اس سے نہ خرید، کیونکہ صدقے میں لوٹنے والا کتے کی مانند ہے جو اپنی قے چاٹتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ". فَبِذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتْرُكُ أَنْ يَبْتَاعَ شَيْئًا تَصَدَّقَ بِهِ أَوْ بَرَّ بِهِ إِلَّا جَعَلَهُ صَدَقَةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر انہوں نے دیکھا کہ اسے فروخت کیا جا رہا ہے تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے مشورہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے صدقے میں نہ پلٹ۔“ اسی وجہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے نہیں خریدتے تھے جسے صدقہ میں دے دیتے تھے یا اس سے نیکی کا حصول مقصود ہوتا تو اسے صدقہ کر دیتے۔