السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كراهية ابتياع ما تصدق به من يدي من تصدق عليه. باب: جس شخص کو صدقہ دیا گیا ہو، اسی کے ہاتھ سے اپنا صدقہ کیا ہوا مال خریدنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7631
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، فَقَالَ زَيْدٌ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْتَرِيهِ فَقَالَ: " لَا تَشْتَرِهِ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ.حافظ ثناء اللہ
حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، میں نے دیکھا کہ اسے بیچا جا رہا ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: میں اسے خرید لوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے نہ خرید اور اپنے صدقہ میں نہ پلٹ۔“