السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كراهية ابتياع ما تصدق به من يدي من تصدق عليه. باب: جس شخص کو صدقہ دیا گیا ہو، اسی کے ہاتھ سے اپنا صدقہ کیا ہوا مال خریدنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7632
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَرَأَى شَيْئًا مِنْ نِتَاجِهِ يُبَاعُ فَأَرَادَ شِرَاءَهُ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا تَشْتَرِهِ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، پھر انہوں نے دیکھا کہ اس میں کچھ عیب ہے اور اسے فروخت کیا جا رہا ہے تو انہوں نے اسے خریدنا چاہا اور نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے نہ خرید اور اپنے صدقے میں نہ پلٹ۔“