السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كراهية ابتياع ما تصدق به من يدي من تصدق عليه. باب: جس شخص کو صدقہ دیا گیا ہو، اسی کے ہاتھ سے اپنا صدقہ کیا ہوا مال خریدنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7634
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ". فَبِذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتْرُكُ أَنْ يَبْتَاعَ شَيْئًا تَصَدَّقَ بِهِ أَوْ بَرَّ بِهِ إِلَّا جَعَلَهُ صَدَقَةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر انہوں نے دیکھا کہ اسے فروخت کیا جا رہا ہے تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے مشورہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے صدقے میں نہ پلٹ۔“ اسی وجہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے نہیں خریدتے تھے جسے صدقہ میں دے دیتے تھے یا اس سے نیکی کا حصول مقصود ہوتا تو اسے صدقہ کر دیتے۔