کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اگر ممکن ہو تو زکوٰۃ بذاتِ خود تقسیم کرنے کو ترجیح دینا تاکہ اس کی درست ادائیگی کا کامل یقین ہو جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ زَكَاةِ مَالِهِ فَقَالَ: " ادْفَعْهَا إِلَيْهِمْ "، فَقَالَ لَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: إِنَّ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: مَرَرْتُ بِامْرَأَةٍ عَطَّارَةٍ فِي السُّوقِ فَلَوْ كَانَ مَعِي شَيْءٌ لَأَعْطَيْتُهَا فَقَالَ: يَا غَضْبَانُ، أَعْطِهِ خَمْسَمِائَةَ دِرْهَمٍ مِنَ الزَّكَاةِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " لَبَّسُوا عَلَيْنَا لَبَّسَ اللهُ عَلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اپنے مال کی زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اسے ان کی طرف لوٹا دو، تو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: بشر بن مروان کے پاس اہل شام میں سے ایک آدمی آیا، اس نے اس سے سوال کیا تو اس نے کہا: میں بازار میں ایک عطار (خوشبو بیچنے والے) کے پاس سے گزرا، اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو میں اسے ضرور دیتا، تو اس نے کہا: اے غضبان! اسے پانچ سو درہم زکوٰۃ میں سے دے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: انہوں نے ہم پر دین خلط ملط کر دیا، اللہ ان پر معاملہ خلط ملط کر دے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7386
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا ابْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنِ الزَّكَاةِ فَقَالَ: " أَعْطِهَا أَنْتَ " فَقُلْتُ: أَلَمْ يَكُنِ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: ادْفَعْهَا إِلَى السُّلْطَانِ، قَالَ: " بَلَى وَلَكِنِّي لَا أَرَى أَنْ تَدْفَعَهَا إِلَى السُّلْطَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
اسامہ بن زید لیثی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے زکاۃ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: تو ادا کر۔ میں نے کہا: کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نہیں کہا کہ اسے امیر کی طرف لوٹاؤ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میری رائے نہیں کہ اسے سلطان کی طرف لوٹاؤ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7387
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ شافعي»