السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الاختيار في قسمها بنفسه إذا أمكنه ذلك ليكون على يقين من أدائها باب: اگر ممکن ہو تو زکوٰۃ بذاتِ خود تقسیم کرنے کو ترجیح دینا تاکہ اس کی درست ادائیگی کا کامل یقین ہو جائے۔
حدیث نمبر: 7386
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ زَكَاةِ مَالِهِ فَقَالَ: " ادْفَعْهَا إِلَيْهِمْ "، فَقَالَ لَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: إِنَّ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: مَرَرْتُ بِامْرَأَةٍ عَطَّارَةٍ فِي السُّوقِ فَلَوْ كَانَ مَعِي شَيْءٌ لَأَعْطَيْتُهَا فَقَالَ: يَا غَضْبَانُ، أَعْطِهِ خَمْسَمِائَةَ دِرْهَمٍ مِنَ الزَّكَاةِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " لَبَّسُوا عَلَيْنَا لَبَّسَ اللهُ عَلَيْهِمْ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اپنے مال کی زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اسے ان کی طرف لوٹا دو، تو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: بشر بن مروان کے پاس اہل شام میں سے ایک آدمی آیا، اس نے اس سے سوال کیا تو اس نے کہا: میں بازار میں ایک عطار (خوشبو بیچنے والے) کے پاس سے گزرا، اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو میں اسے ضرور دیتا، تو اس نے کہا: اے غضبان! اسے پانچ سو درہم زکوٰۃ میں سے دے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: انہوں نے ہم پر دین خلط ملط کر دیا، اللہ ان پر معاملہ خلط ملط کر دے۔