أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، فِي الْفَوَائِدِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابٌ فَقَالُوا: يَأْتِينَا مُصَدِّقُونَ فَيَعْتَدُونَ عَلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْضُوهُمْ " فَأَعَادُوا عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتِ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: " أَرْضُوهُمْ ". قَالَ جَرِيرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَمَا أَتَانِي مُصَدِّقٌ بَعْدُ إِلَّا ذَهَبَ وَهُوَ رَاضٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَأَخْرَجَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ بِطُولِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، انہوں نے عرض کیا: آپ ﷺ کے عامل ہمارے پاس آتے ہیں اور زیادتی کرتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں خوش رکھو،“ آپ ﷺ نے ایسا تین مرتبہ فرمایا، چنانچہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کے بعد جب بھی میرے پاس عامل آیا تو وہ خوش خوش ہی گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو الْغُصْنِ، عَنْ صَخْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنِ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيَأْتِيكُمْ رَكْبٌ مُبْغَضُونَ، فَإِذَا أَتَوْكُمْ فَرَحِّبُوا بِهِمْ وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُونَ فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهَا، وَأَرْضُوهُمْ فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِهِمْ رِضَاهُمْ وَلْيَدْعُوا لَكُمْ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ أَبُو الْغُصْنِ هُوَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ غُصْنٍ. قَالَ الشَّيْخُ: فَهَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلِفٌ إِسْنَادُهُ عَنْ أَبِي الْغُصْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے پاس ایسے سوار آئیں گے جو ناپسند کیے جائیں گے۔ سو جب وہ تمہارے پاس آئیں تو انہیں خوش آمدید کہو، اگر انہوں نے کوئی مطالبہ کیا تو اس کو پورا کرو۔ اگر وہ عدل و انصاف سے کام لیں گے تو یہ ان کی اپنی ذات کے لیے ہے اور اگر وہ ظلم کریں گے تو اس کا وبال بھی انہیں پر ہے اور انہیں خوش کرو، بیشک تمہاری زکاۃ کی تکمیل ان کی رضامندی میں ہے اور چاہیے کہ وہ تمہارے لیے دعا کریں۔“
اس حدیث کی سند ابوالغصن سے مختلف (متضاد) طریقوں سے مروی ہے۔
اس حدیث کی سند ابوالغصن سے مختلف (متضاد) طریقوں سے مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي هُنَيْدٌ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَكَانَ عَلَى أَمْوَالِهِ بِالطَّائِفِ قَالَ: قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: " كَيْفَ تَصْنَعُ فِي صَدَقَةِ أَمْوَالِي؟ " قَالَ: مِنْهَا مَا أَدْفَعُهَا إِلَى السُّلْطَانِ وَمِنْهَا مَا أَتَصَدَّقُ بِهَا فَقَالَ: مَا لَكَ وَمَا لِذَلِكَ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ يَشْتَرُونَ بِهَا الْبِزُوزَ وَيَتَزَوَّجُونَ بِهَا النِّسَاءَ وَيَشْتَرُونَ بِهَا الْأَرَضِينَ، قَالَ: " فَادْفَعْهَا إِلَيْهِمْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَدْفَعَهَا إِلَيْهِمْ وَعَلَيْهِمْ حِسَابُهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ وہ طائف میں ان کے اموال پر نگران تھے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو میرے مال کی زکوٰۃ کا کیا کرتا ہے؟ تو اس نے کہا: اس میں سے کچھ سلطان (بادشاہ) کو دے دیتا ہوں اور کچھ اس میں سے صدقہ کر دیتا ہوں، انہوں نے کہا: وہ اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ تو اس نے کہا: وہ اس کے عوض پارچہ جات لیتے ہیں جن کے ساتھ وہ عورتوں سے نکاح کرتے ہیں اور اس کے ساتھ زمین بھی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اسے ان کو واپس لوٹا دو، بیشک نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ”ہم وہ انہیں لوٹا دیں اور ان کا حساب انہی پر ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، بِنَيْسَابُورَ وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " ادْفَعُوا صَدَقَاتِ أَمْوَالِكُمْ إِلَى مَنْ وَلَّاهُ اللهُ أَمْرَكُمْ فَمَنْ بَرَّ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَثِمَ فَعَلَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اپنے مالوں کی زکوٰۃ اپنے ان لوگوں کو ادا کرو جو تمہارے امور کے والی بنے ہیں، جس نے نیکی کی وہ اسی کے لیے ہے اور جس نے گناہ کیا اس کا وبال اسی پر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْحَضْرَمِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَأَعْطِهِ صَدَقَتَكَ فَإِنِ اعْتَدَى عَلَيْكَ فَوَلِّهِ ظَهْرَهُ وَلَا تَلْعَنْهُ، وَقُلْ: اللهُمَّ إِنِّي احْتَسَبْتُ عِنْدَكَ مَا أَخَذَ مِنِّي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عامل تمہارے پاس آئے تو اپنی زکوۃ اسے دے دو۔ اگر وہ تجھ پر زیادتی کرتے ہیں تو ان سے منہ موڑ لو اور لعنت نہ کرو اور یہ کہو کہ اے اللہ! میں تو تیری جناب سے نیکی بھلائی کا طالب ہوں، اس کے عوض جو انہوں نے مجھ سے وصول کیا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: سُئِلَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنِ الزَّكَاةِ فَأَخْبَرَنَا، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: " ادْفَعُوهَا إِلَيْهِمْ وَإِنْ شَرِبُوا بِهَا الْخَمْرَ "، يَعْنِي الْأُمَرَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
زیاد کے غلام قزعہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس مال کو ان کی طرف لوٹا دو، اگرچہ امراء اس کی شراب ہی کیوں نہ پیئیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ سَعْدٍ الْجُهَنِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ عَنِ الزَّكَاةِ، فَقَالَ: سَمِعْتَ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " كَانَ يَدْفَعُهَا إِلَيْهِمْ يَعْنِي السُّلْطَانَ فِي الْفِتْنَةِ يَقْضَمُونَ بِهَا دَوَابَّهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن بن سعد جہنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے زید بن اسلم رحمہ اللہ سے زکوۃ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کیا تم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: وہ فتنے کے دور میں زکوۃ انہیں یعنی سلطان کو دیا کرتے تھے، جس سے وہ اپنے چوپایوں کو چارہ کھلاتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَى سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ أَدْرَكَ لِي مَالٌ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُؤَدِّيَ زَكَاتَهُ وَأَنَا أَجِدُ لَهَا مَوْضِعًا وَهَؤُلَاءِ يَصْنَعُونَ فِيهَا مَا قَدْ رَأَيْتَ فَقَالَ: " أَدِّهَا إِلَيْهِمْ "، قَالَ: وَسَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَدِّهَا إِلَيْهِمْ قَالَ: وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ أَدِّهَا إِلَيْهِمْ وَرُوِّينَا فِي هَذَا أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سہیل بن صالح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ میرے پاس مال ہے جس کی میں زکاۃ ادا کرنا چاہتا ہوں اور میں اس کے مصرف کو جانتا ہوں اور یہ لوگ اس معاملے میں ایسے ہی کرتے ہیں جو تو نے دیکھا ہے، تو انہوں نے کہا: تو پھر ان کو ادا کر دے، اور فرمایا: میں نے ایسا ہی سوال ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا: ان کو ادا کر دے۔ فرماتے تھے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ان کو اسے ادا کر دے۔