السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الاختيار في قسمها بنفسه إذا أمكنه ذلك ليكون على يقين من أدائها باب: اگر ممکن ہو تو زکوٰۃ بذاتِ خود تقسیم کرنے کو ترجیح دینا تاکہ اس کی درست ادائیگی کا کامل یقین ہو جائے۔
حدیث نمبر: 7387
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا ابْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنِ الزَّكَاةِ فَقَالَ: " أَعْطِهَا أَنْتَ " فَقُلْتُ: أَلَمْ يَكُنِ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: ادْفَعْهَا إِلَى السُّلْطَانِ، قَالَ: " بَلَى وَلَكِنِّي لَا أَرَى أَنْ تَدْفَعَهَا إِلَى السُّلْطَانِ ".حافظ ثناء اللہ
اسامہ بن زید لیثی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے زکاۃ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: تو ادا کر۔ میں نے کہا: کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نہیں کہا کہ اسے امیر کی طرف لوٹاؤ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میری رائے نہیں کہ اسے سلطان کی طرف لوٹاؤ۔