کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جو قبروں کو کوہان نما (اونچا) کرنے کا قائل ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْمَقَابِرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا سُفْيَانُ التَّمَّارُ قَالَ: " رَأَيْتُ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا ".
حافظ ثناء اللہ
سفیان تمار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کو اونٹ کی کوہان کی مانند دیکھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا حَبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ " أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَمَتَى مَا صَحَّتْ رِوَايَةُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قُبُورُهُمْ مَبْطُوحَةٌ بِبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ فَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى التَّسْطِيحِ، وَصِحَّةِ رُؤْيَةِ سُفْيَانَ التَّمَّارِ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا، فَكَأَنَّهُ غُيِّرَ عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ فِي الْقَدِيمِ فَقَدْ سَقَطَ جِدَارُهُ فِي زَمَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَقِيلَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثُمَّ أُصْلِحَ، وَحَدِيثُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْبَابِ أَصَحُّ، وَأَوْلَى أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا، إِلَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِنَا اسْتَحَبَّ التَّسْنِيمَ فِي هَذَا الزَّمَانِ لِكَوْنِهِ جَائِزًا بِالْإِجْمَاعِ، وَأَنَّ التَّسْطِيحَ صَارَ شِعَارًا لِأَهْلِ الْبِدَعِ، فَلَا يَكُونُ سَبَبًا لِإِطَالَةِ الْأَلْسِنَةِ فِيهِ وَرَمْيِهِ بِمَا هُوَ مُنَزَّهٌ عَنْهُ مِنْ مَذَاهِبِ أَهْلِ الْبِدَعِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان تمار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کو اونٹ کے کوہان کی مانند دیکھا۔
جب قاسم بن محمد رحمہ اللہ کی روایت صحیح ہے کہ ان کی قبروں پر صحن کی کنکریاں بچھی ہوئی تھیں تو یہ قبروں کے ہموار ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور سفیان تمار کا نبی ﷺ کی قبر مبارک کو کوہان نما دیکھنا بھی صحیح ہے، تو گویا وہ اپنی پہلی حالت سے بدل دی گئی تھی۔
کیونکہ ولید بن عبدالملک کے دور میں اس کی دیوار گر گئی تھی، اور کہا گیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں، پھر اسے درست کیا گیا۔
اس باب میں قاسم بن محمد رحمہ اللہ کی حدیث زیادہ صحیح ہے اور محفوظ ہونے کے زیادہ لائق ہے، مگر ہمارے اصحاب (شافعی علماء) میں سے بعض اہل علم نے اس زمانے میں قبر کو کوہان نما بنانا مستحب قرار دیا ہے کیونکہ وہ بالاجماع جائز ہے، اور ہموار بنانا اہل بدعت کی علامت بن چکا ہے، تاکہ یہ میت کے بارے میں زبان درازی کا اور اسے اہل بدعت کے ان مذاہب سے متہم کرنے کا سبب نہ بنے جن سے وہ بری ہے۔ اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
جب قاسم بن محمد رحمہ اللہ کی روایت صحیح ہے کہ ان کی قبروں پر صحن کی کنکریاں بچھی ہوئی تھیں تو یہ قبروں کے ہموار ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور سفیان تمار کا نبی ﷺ کی قبر مبارک کو کوہان نما دیکھنا بھی صحیح ہے، تو گویا وہ اپنی پہلی حالت سے بدل دی گئی تھی۔
کیونکہ ولید بن عبدالملک کے دور میں اس کی دیوار گر گئی تھی، اور کہا گیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں، پھر اسے درست کیا گیا۔
اس باب میں قاسم بن محمد رحمہ اللہ کی حدیث زیادہ صحیح ہے اور محفوظ ہونے کے زیادہ لائق ہے، مگر ہمارے اصحاب (شافعی علماء) میں سے بعض اہل علم نے اس زمانے میں قبر کو کوہان نما بنانا مستحب قرار دیا ہے کیونکہ وہ بالاجماع جائز ہے، اور ہموار بنانا اہل بدعت کی علامت بن چکا ہے، تاکہ یہ میت کے بارے میں زبان درازی کا اور اسے اہل بدعت کے ان مذاہب سے متہم کرنے کا سبب نہ بنے جن سے وہ بری ہے۔ اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔