کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قبروں کو برابر کرنے اور انہیں ہموار (سطحی) رکھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيَّ حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، بِرُوذِسَ بِأَرْضِ الرُّومِ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي صَالِحٍ أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ، حَدَّثَهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ وَالْبَاقِي سَوَاءٌ. ⦗٤⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ، وَهَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ ”ان کو برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے“۔
ابو صالح رحمہ اللہ کی ایک روایت میں ہے: ثمامہ بن شفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ارضِ روم میں تھے اور باقی حدیث ایسے ہی ہے جو اوپر گزری۔
ابو صالح رحمہ اللہ کی ایک روایت میں ہے: ثمامہ بن شفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ارضِ روم میں تھے اور باقی حدیث ایسے ہی ہے جو اوپر گزری۔
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي هَيَّاجٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ " أَنْ لَا تَتْرُكَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ، وَلَا تِمْثَالًا فِي بَيْتٍ إِلَّا طَمَسْتَهُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہیاج اسدی کہتے ہیں: مجھے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں تجھے اس کام پر بھیجتا ہوں جس پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا، وہ یہ کہ: ”تو کوئی اونچی قبر نہ چھوڑنا مگر اسے زمین کے برابر کر دینا اور نہ کسی گھر میں کوئی تصویر مگر اسے مٹا دینا۔““
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، أخْبَرَكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَانِئٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ: يَا أُمَّاهُ اكْشِفِي لِي عَنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ، فَكَشَفَتْ لِي عَنْ ثَلَاثَةِ قُبُورٍ، لَا مُشْرِفَةٍ، وَلَا لَاطِئَةٍ، مَبْطُوحَةٍ بِبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ الْحَمْرَاءِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مُقَدَّمًا، وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأْسُهُ بَيْنَ كَتِفَيِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأْسُهُ عِنْدَ رِجْلَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " هُوَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ، قَالَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور میں نے کہا: اے امی جان! مجھے رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھیوں کی قبریں دکھاؤ، تو انہوں نے مجھے تین قبریں دکھائیں جو اونچی یا اوپر کو اٹھی ہوئی نہ تھیں بلکہ وہ بطحا کے سرخ میدان کی طرح تھیں؛ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سب سے آگے دیکھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سر کو رسول اللہ ﷺ کے کندھوں کے پاس اور عمر رضی اللہ عنہ کے سر کو رسول اللہ ﷺ کے پاؤں کے پاس۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الْبَدَا، قَالَ: " دَخَلْتُ مَعَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ قَبْرُ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ قُبُورَهُمْ مُسْتَطِيرَةً ".
حافظ ثناء اللہ
ابوالبداء کہتے ہیں: میں مصعب بن زبیر رحمہ اللہ کے ساتھ اس گھر میں داخل ہوا جس میں نبی کریم ﷺ کی قبر تھی۔ میں نے ان کی قبروں کو چپٹی لکیروں کی مانند دیکھا۔