السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من قال بتسنيم القبور باب: اس شخص کا قول جو قبروں کو کوہان نما (اونچا) کرنے کا قائل ہے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا حَبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ " أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَمَتَى مَا صَحَّتْ رِوَايَةُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قُبُورُهُمْ مَبْطُوحَةٌ بِبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ فَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى التَّسْطِيحِ، وَصِحَّةِ رُؤْيَةِ سُفْيَانَ التَّمَّارِ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا، فَكَأَنَّهُ غُيِّرَ عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ فِي الْقَدِيمِ فَقَدْ سَقَطَ جِدَارُهُ فِي زَمَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَقِيلَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثُمَّ أُصْلِحَ، وَحَدِيثُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْبَابِ أَصَحُّ، وَأَوْلَى أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا، إِلَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِنَا اسْتَحَبَّ التَّسْنِيمَ فِي هَذَا الزَّمَانِ لِكَوْنِهِ جَائِزًا بِالْإِجْمَاعِ، وَأَنَّ التَّسْطِيحَ صَارَ شِعَارًا لِأَهْلِ الْبِدَعِ، فَلَا يَكُونُ سَبَبًا لِإِطَالَةِ الْأَلْسِنَةِ فِيهِ وَرَمْيِهِ بِمَا هُوَ مُنَزَّهٌ عَنْهُ مِنْ مَذَاهِبِ أَهْلِ الْبِدَعِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.سفیان تمار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کو اونٹ کے کوہان کی مانند دیکھا۔
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تب تو محمد بن قاسم رحمہ اللہ کی حدیث درست ہوئی کہ ان کی قبریں بطحاء عرصہ کی طرح بچھی ہوئی تھیں اور سفیان تمار کا نبی ﷺ کی قبر مبارک کو دیکھنا درست ہوا کہ وہ کوہان نما تھی، گویا کہ لمبا عرصہ گزرنے سے وہ تبدیل ہوگئی تھی۔
ولید بن عبدالملک کے دور میں اس کی دیوار گر گئی تھی، بعض نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں کہا، پھر اسے درست کیا گیا۔
اس باب میں قاسم بن محمد رحمہ اللہ کی حدیث صحیح ہے، مگر بعض اہل علم صحابہ میں سے اس زمانے میں کوہان نما بنانے کو جائز قرار دیتے ہیں اور جو برابر (ہموار) ہے، وہ اہل بدعت کی علامت (نشانی) بن چکی ہے اور وہ اہل بدعت کے مذہب سے بہتر ہے۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی وصیت میں بیان کیا گیا ہے کہ ”میری قبر پر عمارت نہ بنانا“ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”مجھ پر خیمہ نہ لگانا“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وصیت بھی اسی طرح ہے۔