کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قمیص میں کفن دینے کا جواز اور ہمارا اسی چیز کو پسند کرنا جو رسول اللہ ﷺ کے لیے پسند کی گئی
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: " أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، أَوْ فَخِذَيْهِ، فَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ ". وَاللهُ أَعْلَمُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَالِكِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن ابی کی قبر کے پاس آئے، اس کے بعد جب اسے قبر میں ڈال دیا گیا تھا، سو آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے نکالا گیا، آپ ﷺ نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اپنا لعابِ مبارک اس پر ڈالا اور اپنی قمیض اسے پہنائی اور اللہ زیادہ جانتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: لَمَّا كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِالْمَدِينَةِ طَلَبَتْ لَهُ الْأَنْصَارُ ثَوْبًا يَكْسُونَهُ، فَلَمْ يَجِدُوا قَمِيصًا يَصْلُحُ عَلَيْهِ إِلَّا قَمِيصَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَكَسَوْهُ إِيَّاهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيِّ عَنْ سُفْيَانَ، وَقَدْ قِيلَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَدَ بِمَا فَعَلَ مَكَافَأَتَهُ بِمَا صَنَعَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ مدینے میں تھے، انصاریوں نے انہیں پہنانے کے لیے کپڑا تلاش کیا تو انہوں نے کوئی قمیص نہ پائی جو انہیں پوری آتی سوائے عبداللہ بن ابی (منافق) کی قمیص کے، چنانچہ انہوں نے وہی قمیص انہیں پہنا دی۔
سفیان یہ بات بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے وہ بدلہ دینے کی بنا پر کیا جو اس نے کیا تھا (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو قمیص پہنائی تھی)۔
سفیان یہ بات بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے وہ بدلہ دینے کی بنا پر کیا جو اس نے کیا تھا (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو قمیص پہنائی تھی)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَزَادَ قَالَ سُفْيَانُ: فَلَعَلَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَازَاهُ بِذَلِكَ الْقَمِيصِ.
حافظ ثناء اللہ
اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں سفیان رحمہ اللہ نے ایسی ہی حدیث بیان کی اور سفیان رحمہ اللہ نے یہ اضافی بات کہی کہ شاید آپ ﷺ نے قمیض اس لیے پہنائی کہ اس کا بدلہ ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ، فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ اللهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللهُ فَقَالَ {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ، أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ} [التوبة: ٨٠] وَسَأَزِيدُ عَلَى سَبْعِينَ " قَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} [التوبة: ٨٤] " الْآيَةَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَغَيْرِهِ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول فوت ہوا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور سوال کیا کہ میرے ابا کو کفن دینے کے لیے اپنی قمیض دیں تو آپ ﷺ نے اسے دے دی۔ پھر اس نے کہا کہ آپ ﷺ جنازہ پڑھ دیں تو رسول اللہ ﷺ جنازے پڑھانے کے لیے کھڑے ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی قمیض کو پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اس کا جنازہ پڑھائیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منع کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے“ اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80] کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں اور اگر آپ ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تب بھی انہیں معاف نہیں کرے گا اور ”شاید میں ستر سے بھی زیادہ کروں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ منافق ہے۔ کہتے ہیں: تب رسول اللہ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] کہ آئندہ آپ ان میں سے کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھیں گے اور نہ ہی کبھی ان کی قبر پر کھڑے ہونا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ: " الْمَيِّتُ يُقَمَّصُ، وَيُؤَزَّرُ، وَيُلَفُّ بِالثَّوْبِ الثَّالِثِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ كُفِّنَ فِيهِ ". وَهَذَا مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میت کو قمیض پہنائی جائے گی اور تہہ بند بھی اور تیسرے کپڑے میں لپیٹ دیا جائے گا، اگر صرف ایک ہی کپڑا ہو تو اسی میں کفن دیا جائے گا۔
نافع رحمہ اللہ سے یہ بیان کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے دو بیٹے فوت ہو گئے تو انہوں نے انہیں پانچ کپڑوں میں کفن دیا جس میں پگڑی، قمیض اور تین غلاف تھے۔
نافع رحمہ اللہ سے یہ بیان کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے دو بیٹے فوت ہو گئے تو انہوں نے انہیں پانچ کپڑوں میں کفن دیا جس میں پگڑی، قمیض اور تین غلاف تھے۔