السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: جواز التكفين في القميص وإنا كنا نختار ما اختير لرسول الله صلى الله عليه وسلم باب: قمیص میں کفن دینے کا جواز اور ہمارا اسی چیز کو پسند کرنا جو رسول اللہ ﷺ کے لیے پسند کی گئی
حدیث نمبر: 6689
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ: " الْمَيِّتُ يُقَمَّصُ، وَيُؤَزَّرُ، وَيُلَفُّ بِالثَّوْبِ الثَّالِثِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ كُفِّنَ فِيهِ ". وَهَذَا مَوْقُوفٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میت کو قمیض پہنائی جائے گی اور تہہ بند بھی اور تیسرے کپڑے میں لپیٹ دیا جائے گا، اگر صرف ایک ہی کپڑا ہو تو اسی میں کفن دیا جائے گا۔
نافع رحمہ اللہ سے یہ بیان کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے دو بیٹے فوت ہو گئے تو انہوں نے انہیں پانچ کپڑوں میں کفن دیا جس میں پگڑی، قمیض اور تین غلاف تھے۔