السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: جواز التكفين في القميص وإنا كنا نختار ما اختير لرسول الله صلى الله عليه وسلم باب: قمیص میں کفن دینے کا جواز اور ہمارا اسی چیز کو پسند کرنا جو رسول اللہ ﷺ کے لیے پسند کی گئی
حدیث نمبر: 6686
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: لَمَّا كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِالْمَدِينَةِ طَلَبَتْ لَهُ الْأَنْصَارُ ثَوْبًا يَكْسُونَهُ، فَلَمْ يَجِدُوا قَمِيصًا يَصْلُحُ عَلَيْهِ إِلَّا قَمِيصَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَكَسَوْهُ إِيَّاهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيِّ عَنْ سُفْيَانَ، وَقَدْ قِيلَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَدَ بِمَا فَعَلَ مَكَافَأَتَهُ بِمَا صَنَعَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ مدینے میں تھے، انصاریوں نے انہیں پہنانے کے لیے کپڑا تلاش کیا تو انہوں نے کوئی قمیص نہ پائی جو انہیں پوری آتی سوائے عبداللہ بن ابی (منافق) کی قمیص کے، چنانچہ انہوں نے وہی قمیص انہیں پہنا دی۔
سفیان یہ بات بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے وہ بدلہ دینے کی بنا پر کیا جو اس نے کیا تھا (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو قمیص پہنائی تھی)۔