حدیث نمبر: 6682
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٦٣⦘ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الْوَرَّاقُ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللهِ نَبْتَغِي وَجْهَ اللهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ: مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ شَيْءٌ يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً، فَكُنَّا إِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رَأْسِهِ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَعُوهَا مِمَّا يَلِي رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ " قَالَ: وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يُهْدِيهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے ہجرت کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ کی راہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے، ہمارا اجر اللہ پر واجب ہوگیا، ہم میں سے وہ بھی تھے جو اس اجر کا فائدہ اٹھائے بغیر چل دیے، ان میں سے ایک مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے، جو احد کے دن شہید کردیے گئے، ہم نے ایک موٹی چادر کے بغیر کوئی کپڑا نہ پایا جس میں ہم انھیں کفن دیتے، سو ہم جب اسے ان کے چہرے پر رکھتے یعنی سر پر ڈالتے تو ان کے پاؤں نکل آتے اور جب پاؤں پر ڈالتے تو سر ننگا ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو سر پر ڈال دو اور اس کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔“ پھر انہوں نے کہا: ہم میں سے وہ بھی ہیں جن کا پھل تیار ہوچکا ہے اور وہ اسے توڑ رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 6683
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا، فَقَالَ: " قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَكُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ، إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ، قَالَ: وَأَرَاهُ قَالَ: وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا، أَوْ قَالَ: أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا، وَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا، وَجَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ وَغَيْرِهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
سعد بن ابراہیم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لایا گیا اور وہ روزے سے تھے تو انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے اور انہیں ایسی چادر میں کفن دیا گیا کہ اگر اس سے سر کو ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر قدم ڈھانپے جاتے تو سر ننگا ہو جاتا۔ میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے اور وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ پھر ہمارے لیے دنیا فراخ کر دی گئی یا انہوں نے کہا: ہمیں دنیا دی گئی جس قدر دی گئی اور ہمیں ڈر ہونے لگا کہ ہماری بھلائیاں ہمارے لیے جلد عطا کر دی گئی ہیں اور وہ رونا شروع ہو گئے۔ یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 6684
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: " لَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاحِيَةً وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ تَؤُمُّ الْقَتْلَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَرْأَةَ الْمَرْأَةَ " فَلَمَّا تَوَسَّمْتُهَا فَإِذَا هِيَ أُمِّي صَفِيَّةُ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ، ارْجِعِي، فَلَدَمَتْ فِي صَدْرِي وَقَالَتْ: لَا أَرْضَ لَكَ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْزِمُ عَلَيْكِ قَالَ: فَأَعْطَتْنِي ثَوْبَيْنِ، فَقَالَتْ: كَفِّنُوا فِي هَذَيْنِ أَخِي، قَالَ: فَوَجَدْنَا إِلَى جَنْبِ حَمْزَةَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ لَيْسَ لَهُ كَفَنٌ، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا غَضَاضَةً أَنْ نُكَفِّنَ حَمْزَةَ فِي ثَوْبَيْنِ وَالْأَنْصَارِيُّ إِلَى جَنْبِهِ لَيْسَ لَهُ كَفَنٌ، قَالَ: فَأَقْرَعْنَا بَيْنَهُمَا فِي أَجْوَدِ الثَّوْبَيْنِ فَكَفَّنَّا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي الثَّوْبِ الَّذِي طَارَ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ احد کے دن جب مشرک واپس پلٹے تو نبی کریم ﷺ ایک جانب بیٹھ گئے۔ اسی اثناء میں ایک عورت آئی جو مقتولین کا جائزہ لے رہی تھی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عورت! عورت!“ جب میں نے اسے پرکھا تو وہ میری والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں، میں نے کہا: ”امی جان! واپس چلی جائیں۔“ تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: «لَا أُمَّ لَكَ» ”تیرے لیے ماں نہ ہو۔“ میں نے کہا: ”پیارے پیغمبر ﷺ آپ (کو واپس جانے) کا عزم کرتے ہیں۔“ وہ کہتے ہیں، پھر انہوں نے مجھے دو کپڑے دیے اور کہا کہ میرے بھائی کو ان میں کفن دو۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کی میت کو دیکھا جس پر کفن نہیں تھا تو ہم نے اپنے دل میں کچھ پریشانی و اضطراب پایا کہ ہم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو تو دو کپڑوں میں کفن دیں اور ان کے پہلو میں موجود انصاری پر کفن نہ ہو۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے ان دونوں میں نئے کپڑوں کے لیے قرعہ ڈالا، پھر ہم نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو اس کپڑے میں کفن دیا جو اس کے حصے میں آیا۔