السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: جواز التكفين في القميص وإنا كنا نختار ما اختير لرسول الله صلى الله عليه وسلم باب: قمیص میں کفن دینے کا جواز اور ہمارا اسی چیز کو پسند کرنا جو رسول اللہ ﷺ کے لیے پسند کی گئی
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ، فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ اللهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللهُ فَقَالَ {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ، أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ} [التوبة: ٨٠] وَسَأَزِيدُ عَلَى سَبْعِينَ " قَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} [التوبة: ٨٤] " الْآيَةَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَغَيْرِهِ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول فوت ہوا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور سوال کیا کہ میرے ابا کو کفن دینے کے لیے اپنی قمیض دیں تو آپ ﷺ نے اسے دے دی۔ پھر اس نے کہا کہ آپ ﷺ جنازہ پڑھ دیں تو رسول اللہ ﷺ جنازے پڑھانے کے لیے کھڑے ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی قمیض کو پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اس کا جنازہ پڑھائیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منع کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے“ اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80] کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں اور اگر آپ ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تب بھی انہیں معاف نہیں کرے گا اور ”شاید میں ستر سے بھی زیادہ کروں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ منافق ہے۔ کہتے ہیں: تب رسول اللہ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] کہ آئندہ آپ ان میں سے کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھیں گے اور نہ ہی کبھی ان کی قبر پر کھڑے ہونا۔