کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے ذریعے بارش طلب کرنے کا بیان جس کی دعا کی برکت کی امید ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِسْطَامُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ أَبِي طَالِبٍ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن دینار اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ ابو طالب کے اس شعر سے تمثل بیان کرتے تھے:
«وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ»
ترجمہ: ”وہ سفید چہرے والا جس سے بادل بھی فیض حاصل کرتے ہیں، یتیموں کا فریاد رس اور بیواؤں کو کھلانے والا۔“
«وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ»
ترجمہ: ”وہ سفید چہرے والا جس سے بادل بھی فیض حاصل کرتے ہیں، یتیموں کا فریاد رس اور بیواؤں کو کھلانے والا۔“
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ: حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، يَعْنِي مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَسْتَسْقِي، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ، فَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ:.
حافظ ثناء اللہ
سالم اپنے باپ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ بسا اوقات میں شاعر کے شعر کو یاد کرتا اور رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو دیکھتا جو منبر پر کھڑے بارش مانگ رہے ہوتے اور آپ ﷺ منبر سے نہ اترتے کہ ہر پرنالہ جوش سے بہنے لگتا اور مجھے شاعر کا قول یاد آجاتا:
«وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ»
”وہ گورے رنگ والے جن کے مبارک چہرے کے ذریعے بادلوں سے بارش طلب کی جاتی ہے، وہ یتیموں کا ملجا اور بیواؤں کا سہارا ہیں“ اور انہوں نے کہا کہ یہ ابو طالب کا قول ہے۔
«وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ»
”وہ گورے رنگ والے جن کے مبارک چہرے کے ذریعے بادلوں سے بارش طلب کی جاتی ہے، وہ یتیموں کا ملجا اور بیواؤں کا سہارا ہیں“ اور انہوں نے کہا کہ یہ ابو طالب کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ يَعْنِي عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " اللهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ الْيَوْمَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْقِنَا، فَيُسْقَوْنَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيِّ. وَقَالَ: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ، وَكَأَنَّ ذِكْرَ أَنَسٍ سَقَطَ مِنْ كِتَابِ شَيْخِنَا أَبِي مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَدْ رَوَاهُ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ وَغَيْرُهُ عَنِ الْأَنْصَارِيِّ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب قحط زدہ ہو جاتے تو وہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ دعا کرتے اور کہتے: «اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا» ”اے اللہ! ہم تیری طرف تیرے نبی ﷺ کا وسیلہ لے کر آتے تھے تو تو ہمیں بارش دے دیتا تھا، آج ہم تیری طرف تیرے نبی ﷺ کے چچا کو وسیلہ لے کر آئے ہیں، سو تو ہمیں بارش عطا کر دے“، تو وہ بارش دے دیے جاتے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں حسن بن محمد زعفرانی سے بیان کیا اور انہوں نے کہا: یہ روایت بغیر کسی شک کے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ابو محمد کی کتاب سے ان کا نام ساقط ہو گیا ہے۔