السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: الاستسقاء بمن ترجى بركة دعائه باب: اس شخص کے ذریعے بارش طلب کرنے کا بیان جس کی دعا کی برکت کی امید ہو
حدیث نمبر: 6426
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ: حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، يَعْنِي مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَسْتَسْقِي، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ، فَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ:.حافظ ثناء اللہ
سالم اپنے باپ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ بسا اوقات میں شاعر کے شعر کو یاد کرتا اور رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو دیکھتا جو منبر پر کھڑے بارش مانگ رہے ہوتے اور آپ ﷺ منبر سے نہ اترتے کہ ہر پرنالہ جوش سے بہنے لگتا اور مجھے شاعر کا قول یاد آجاتا: «وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ»
”وہ گورے رنگ والے جن کے مبارک چہرے کے ذریعے بادلوں سے بارش طلب کی جاتی ہے، وہ یتیموں کا ملجا اور بیواؤں کا سہارا ہیں“ اور انہوں نے کہا کہ یہ ابو طالب کا قول ہے۔