حدیث نمبر: 6427
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ يَعْنِي عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " اللهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ الْيَوْمَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْقِنَا، فَيُسْقَوْنَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيِّ. وَقَالَ: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ، وَكَأَنَّ ذِكْرَ أَنَسٍ سَقَطَ مِنْ كِتَابِ شَيْخِنَا أَبِي مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَدْ رَوَاهُ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ وَغَيْرُهُ عَنِ الْأَنْصَارِيِّ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب قحط زدہ ہو جاتے تو وہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ دعا کرتے اور کہتے: «اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا» ”اے اللہ! ہم تیری طرف تیرے نبی ﷺ کا وسیلہ لے کر آتے تھے تو تو ہمیں بارش دے دیتا تھا، آج ہم تیری طرف تیرے نبی ﷺ کے چچا کو وسیلہ لے کر آئے ہیں، سو تو ہمیں بارش عطا کر دے“، تو وہ بارش دے دیے جاتے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں حسن بن محمد زعفرانی سے بیان کیا اور انہوں نے کہا: یہ روایت بغیر کسی شک کے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ابو محمد کی کتاب سے ان کا نام ساقط ہو گیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6427
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»