کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: خطبہ استسقاء میں کثرت سے استغفار کرنے اور کثرت سے یہ کہنے کے مستحب ہونے کا بیان کہ ”اپنے رب سے بخشش مانگو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے وہ تم پر موسلادھار بارش برسائے گا“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْحَكَمُ هُوَ ابْنُ مُصْعَبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هُمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے استغفار کو لازم کر لیا اللہ تعالیٰ اس کو ہر غم سے فراخی عطا فرما دیں گے اور ہر تنگی سے نجات دیں گے اور رزق وہاں سے عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو الْفَضْلِ الرِّيَاشِيُّ، ثنا الْأَصْمَعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " خَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَسْقِي، فَجَعَلَ لَا يَزِيدُ عَلَى الِاسْتِغْفَارِ، فَقُلْتُ: أَلَا يَتَكَلَّمُ لِمَا خَرَجَ لَهُ؟ وَلَا أَعْلَمُ أَنَّ الِاسْتِسْقَاءَ هُوَ الِاسْتِغْفَارُ فَمُطِرْنَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جَزْء سَعْدِی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے اور انہوں نے استغفار سے کچھ زیادہ نہ کیا، تو میں نے کہا کہ وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم کس مقصد کے لیے نکلے؟ میں نہیں جانتا کہ استسقاء سے مراد استغفار ہے، مگر ہمیں بارش دے دی گئی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ مُجَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُجَالِدٍ الْبَجَلِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيُّ، ثنا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، أنبأ عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَصَعِدَ عُمَرُ الْمِنْبَرَ فَاسْتَسْقَى، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى الِاسْتِغْفَارِ حَتَّى نَزَلَ، فَقَالُوا لَهُ: مَا سَمِعْنَاكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اسْتَسْقَيْتَ فَقَالَ: " لَقَدْ طَلَبْتُ الْغَيْثَ بِمَفَاتِيحِ السَّمَاءِ الَّتِي بِهَا يُسْتَنْزَلُ الْمَطَرُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةِ {اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا. يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا} [نوح: ١١]، وَقَوْلُهُ {وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ} [هود: ٥٢]، فَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ". كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي بِمَفَاتِيحِ السَّمَاءِ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ مُطَرِّفٍ فَقَالَ: بِمَجَادِيحِ السَّمَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگوں کو قحط سالی نے آ لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے۔ انہوں نے بارش کی دعا کروائی مگر توبہ و استغفار کے علاوہ کچھ نہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ منبر سے اتر آئے تو لوگوں نے کہا کہ ہم نے نہیں سنا کہ آپ نے بارش بھی مانگی ہو۔ اے امیر المؤمنین! تو انہوں نے کہا کہ میں نے بارش ہی طلب کی ہے آسمان کی ان چابیوں سے جس سے بارش نازل کی جاتی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیات مبارکہ تلاوت کیں ﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا * يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا﴾ [سورة نوح: 10-11]، ﴿وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ﴾ [سورة هود: 52] اور ﴿وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ﴾ [سورة هود: 90]۔ میں نے اسے ہی اپنی کتاب میں پایا ہے «بِمَفَاتِيحِ السَّمَاءِ» ”آسمان کی چابیوں سے“، مطرف نے کہا «بِمَجَادِيحِ السَّمَاءِ» ”آسمان کے یہ نالے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا ⦗٤٩١⦘ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَسْقِي، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى الِاسْتِغْفَارِ حَتَّى رَجَعَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا رَأَيْنَاكَ اسْتَسْقَيْتَ فَقَالَ: " لَقَدْ طَلَبْتُ الْمَطَرَ بِمَجَادِيحِ السَّمَاءِ، الَّذِي يُسْتَنْزَلُ بِهِ الْمَطَرُ، ثُمَّ قَرَأَ {اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا. يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا} [نوح: ١٠]، {وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا} [هود: ٥٢] ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بارش مانگنے کے لیے نکلے اور انہوں نے صرف استغفار ہی کیا اس کے علاوہ کچھ بھی نہ کیا اور پلٹ آئے تو ان سے کہا گیا کہ ہم نے تو نہیں دیکھا کہ آپ نے بارش مانگی ہو تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے بارش مانگی ہے آسمان کے پرنالوں میں سے جہاں سے بارش اترتی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیات تلاوت کیں ﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا * يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا﴾ [سورة نوح: 10، 11] اور ﴿وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا﴾ [سورة هود: 52]۔