کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: امام لوگوں کے لیے بارش کی دعا کرے تو اللہ انہیں بارش عطا کر دے تاکہ دیکھے کہ وہ اس کے شکر میں کیسا عمل کرتے ہیں
حدیث نمبر: 6428
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، أنبأ أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " لَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا قَالَ: " اللهُمَّ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ "، فَأَخْذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى أَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْجُلُودَ وَالْعِظَامَ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ وَنَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّكَ بُعِثْتَ رَحْمَةً، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللهَ لَهُمْ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسُقُوا الْغَيْثَ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ سَبْعًا، فَشَكَى النَّاسُ كَثْرَةَ الْمَطَرِ، فَقَالَ: " اللهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا "، فَانْحَدَرَتِ السَّحَابَةُ عَنْ رَأْسِهِ، قَالَ: " فَأُسْقِيَ النَّاسُ حَوْلَهُمْ " قَالَ: لَقَدْ مَضَتْ آيَةُ الدُّخَانِ، وَهُوَ الْجُوعُ الَّذِي أَصَابَهُمْ، وَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ} [الدخان: ١٥]، وَآيَةُ اللُّزُومِ، وَالْبَطْشَةِ الْكُبْرَى يَوْمَ بَدْرٍ، وَانْشِقَاقِ الْقَمَرِ ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ مَنْصُورٍ، وَأَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى رِوَايَةِ أَسْبَاطٍ بِزِيَادَتِهِ الَّتِي جَاءَ بِهَا فِي الْحَدِيثِ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِجَابَةِ دَعْوَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب پیارے پیغمبر ﷺ نے لوگوں کو دین سے منہ موڑتے دیکھا تو آپ ﷺ نے بد دعا کی: «اَللّٰهُمَّ سَبْعًا كَسَبْعِ يُوسُفَ» ”اے اللہ! انہیں یوسف جیسی قحط سالی سے دوچار کر۔“ تو انہیں قحط سالی نے آلیا یہاں تک کہ انہوں نے مردار، چمڑے اور ہڈیاں تک کھائیں، تو ابوسفیان اور اہل مکہ پیارے پیغمبر ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد! تیرا خیال ہے کہ تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور تیری قوم ہلاک ہو رہی ہے، تو ان کے لیے اللہ سے دعا کر۔ پیارے پیغمبر ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، ان کو بارش دے دی گئی اور سات دن متواتر بارش ہوتی رہی، پھر لوگوں نے بارش کے زیادہ ہو جانے کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! اسے ہمارے ارد گرد برسا اور ہم پر نہ برسا۔“ تو بادل آپ ﷺ کے سر سے چھٹ گئے، راوی کہتے ہیں کہ ارد گرد کے لوگوں پر بارش ہوتی رہی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو آیت دخان گزری ہے اس سے وہی قحط سالی مراد ہے جو انہیں پہنچی اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ﴾ ﴿بیشک ہم عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹانے والے ہیں کیونکہ تم پھر لوٹنے والے ہو﴾ [سورة الدخان: 15]، سورہ روم کی آیت، «اَلْبَطْشَةُ الْكُبْرٰی»، یومِ بدر اور انشقاقِ قمر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6428
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»