السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما يستحب من كثرة الاستغفار في خطبة الاستسقاء وأن يقول كثيرا: استغفروا ربكم إنه كان غفارا. يرسل السماء عليكم مدرارا باب: خطبہ استسقاء میں کثرت سے استغفار کرنے اور کثرت سے یہ کہنے کے مستحب ہونے کا بیان کہ ”اپنے رب سے بخشش مانگو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے وہ تم پر موسلادھار بارش برسائے گا“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ مُجَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُجَالِدٍ الْبَجَلِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيُّ، ثنا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، أنبأ عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَصَعِدَ عُمَرُ الْمِنْبَرَ فَاسْتَسْقَى، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى الِاسْتِغْفَارِ حَتَّى نَزَلَ، فَقَالُوا لَهُ: مَا سَمِعْنَاكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اسْتَسْقَيْتَ فَقَالَ: " لَقَدْ طَلَبْتُ الْغَيْثَ بِمَفَاتِيحِ السَّمَاءِ الَّتِي بِهَا يُسْتَنْزَلُ الْمَطَرُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةِ {اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا. يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا} [نوح: ١١]، وَقَوْلُهُ {وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ} [هود: ٥٢]، فَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ". كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي بِمَفَاتِيحِ السَّمَاءِ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ مُطَرِّفٍ فَقَالَ: بِمَجَادِيحِ السَّمَاءِ.شعبی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگوں کو قحط سالی نے آ لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے۔ انہوں نے بارش کی دعا کروائی مگر توبہ و استغفار کے علاوہ کچھ نہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ منبر سے اتر آئے تو لوگوں نے کہا کہ ہم نے نہیں سنا کہ آپ نے بارش بھی مانگی ہو۔ اے امیر المؤمنین! تو انہوں نے کہا کہ میں نے بارش ہی طلب کی ہے آسمان کی ان چابیوں سے جس سے بارش نازل کی جاتی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیات مبارکہ تلاوت کیں ﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا * يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا﴾ [سورة نوح: 10-11]، ﴿وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ﴾ [سورة هود: 52] اور ﴿وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ﴾ [سورة هود: 90]۔ میں نے اسے ہی اپنی کتاب میں پایا ہے «بِمَفَاتِيحِ السَّمَاءِ» ”آسمان کی چابیوں سے“، مطرف نے کہا «بِمَجَادِيحِ السَّمَاءِ» ”آسمان کے یہ نالے“۔