السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما يستحب من كثرة الاستغفار في خطبة الاستسقاء وأن يقول كثيرا: استغفروا ربكم إنه كان غفارا. يرسل السماء عليكم مدرارا باب: خطبہ استسقاء میں کثرت سے استغفار کرنے اور کثرت سے یہ کہنے کے مستحب ہونے کا بیان کہ ”اپنے رب سے بخشش مانگو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے وہ تم پر موسلادھار بارش برسائے گا“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا ⦗٤٩١⦘ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَسْقِي، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى الِاسْتِغْفَارِ حَتَّى رَجَعَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا رَأَيْنَاكَ اسْتَسْقَيْتَ فَقَالَ: " لَقَدْ طَلَبْتُ الْمَطَرَ بِمَجَادِيحِ السَّمَاءِ، الَّذِي يُسْتَنْزَلُ بِهِ الْمَطَرُ، ثُمَّ قَرَأَ {اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا. يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا} [نوح: ١٠]، {وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا} [هود: ٥٢] ".شعبی بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بارش مانگنے کے لیے نکلے اور انہوں نے صرف استغفار ہی کیا اس کے علاوہ کچھ بھی نہ کیا اور پلٹ آئے تو ان سے کہا گیا کہ ہم نے تو نہیں دیکھا کہ آپ نے بارش مانگی ہو تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے بارش مانگی ہے آسمان کے پرنالوں میں سے جہاں سے بارش اترتی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیات تلاوت کیں ﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا * يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا﴾ [سورة نوح: 10، 11] اور ﴿وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا﴾ [سورة هود: 52]۔