السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: العدو يكون وجاه القبلة في صحراء لا يواريهم شيء في قلة منهم وكثرة من المسلمين باب: دشمن صحرا میں قبلہ رخ ہو، کوئی چیز انہیں چھپا نہ رہی ہو، ان کی تعداد کم اور مسلمانوں کی زیادہ ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَا كَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ إِلَّا ⦗٣٦٨⦘ كَصَلَاةِ أَحْرَاسِكُمْ هَؤُلَاءِ الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ، أَظُنُّهُ قَالَ: عَقِبًا، قَامَتْ طَائِفَةٌ وَهُمْ جَمِيعٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ مَعَهُ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ، وَقَامَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا سَجَدُوا مَعَهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِمْ سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ جَلَسُوا فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّلَامِ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نمازِ خوف ایسے ہی تھی، جیسے آج کل تمہارے محافظوں کی نماز ہے، اپنے اماموں کے پیچھے۔ ایک گروہ نبی ﷺ کے ساتھ کھڑا ہوتا اور وہ سب نبی ﷺ کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ گروہ جو کھڑا تھا خود سجدے کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ قیام فرماتے تو وہ سارے آپ ﷺ کے ساتھ قیام کرتے، پھر آپ ﷺ رکوع فرماتے تو وہ بھی سارے آپ ﷺ کے ساتھ رکوع کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ سجدہ فرماتے تو آپ ﷺ کے ساتھ وہ لوگ سجدہ کرتے جو پہلی مرتبہ کھڑے رہے اور وہ لوگ کھڑے رہے جنہوں نے پہلی مرتبہ آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا تھا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور وہ لوگ جنہوں نے آخری نماز میں آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا تھا، انہوں نے سجدہ کیا جو کھڑے رہے۔ پھر وہ بیٹھے رہے تو نبی ﷺ نے سلام میں دونوں گروہوں کو جمع فرمایا۔