السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: العدو يكون وجاه القبلة في صحراء لا يواريهم شيء في قلة منهم وكثرة من المسلمين باب: دشمن صحرا میں قبلہ رخ ہو، کوئی چیز انہیں چھپا نہ رہی ہو، ان کی تعداد کم اور مسلمانوں کی زیادہ ہو
حدیث نمبر: 6029
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ الْوَلِيدِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: " قَامَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَتَأَخَّرَ الَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ وَحَرَسُوا إِخْوَانَهُمْ، فَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَرَكَعُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدُوا وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلَاةٍ يُكَبِّرُونَ، وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کھڑے ہوئے تو لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے، پھر آپ ﷺ نے تکبیر کہی تو لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ تکبیر کہی، آپ ﷺ نے رکوع کیا تو لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، پھر وہ پیچھے ہٹے جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا تھا اور انہوں نے اپنے بھائیوں کا پہرہ دیا، پھر دوسرے گروہ نے نبی ﷺ کے ساتھ رکوع و سجود کیے، سارے لوگ نماز میں تھے، وہ تکبیر کہہ رہے تھے اور وہ ایک دوسرے کا پہرہ دے رہے تھے۔