السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: العدو يكون وجاه القبلة في صحراء لا يواريهم شيء في قلة منهم وكثرة من المسلمين باب: دشمن صحرا میں قبلہ رخ ہو، کوئی چیز انہیں چھپا نہ رہی ہو، ان کی تعداد کم اور مسلمانوں کی زیادہ ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيُّ التَّمِيمِيُّ، أنبأ عَبْدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " شَهِدْتُ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّينِ، وَكَانَ الْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامُوا، انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَوْا سُجُودَهُمْ وَقَامُوا، تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامُوا انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَوْا سُجُودَهُمْ وَقَامُوا تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الْمُقَدَّمُ الَّذِي كَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، فَلَمَّا قَضَى السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَسَجَدُوا ". قَالَ جَابِرٌ: " كَمَا يَصْنَعُ حَرَسُكُمْ هَؤُلَاءِ بِأُمَرَائِهِمْ "..سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نمازِ خوف میں میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا اور ہم نے نبی ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنائیں۔ دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا۔ نبی ﷺ نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا۔ ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے بھی اٹھایا۔ پھر نبی ﷺ سجدہ میں چلے گئے اور وہ صف جو آپ ﷺ کے ساتھ تھی، دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی۔ جب نبی ﷺ اور پہلی صف نے سجدے پورے کر لیے اور کھڑے ہو گئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا۔ جب انہوں نے اپنے سجدے پورے کر لیے اور کھڑے ہوئے تو پچھلی صف آگے بڑھی اور پہلی صف پیچھے آگئی۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے بھی اٹھایا۔ پھر نبی ﷺ سجدے میں چلے گئے اور پہلی صف بھی سجدہ میں چلی گئی جو پہلی رکعت میں پیچھے تھی۔ جب آپ ﷺ نے سجدہ پورا کیا اور پہلی صف نے بھی تو پھر دوسری صف سجدہ میں چلی گئی۔ انہوں نے سجدے پورے کیے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جیسے تمہارے محافظ امیروں کے ساتھ کرتے ہیں۔