کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جب نماز کے لیے نکلے تو اپنی انگلیوں میں انگلیاں نہ ڈالے (تشبیک نہ کرے)
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَحْمَدَ الْزَوْزَنِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَايِنِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ الْحَنَّاطِ قَالَ: أَدْرَكَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ وَأَنَا بِالْبَلَاطِ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَسْجِدِ، مُشَبِّكًا بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلَا يُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو ثمامہ حناط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور میں بلاط نامی جگہ میں تھا اور مسجد کی طرف جا رہا تھا، میں نے انگلیوں میں تشبیک دی ہوئی تھی (انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کرنا) انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اچھی طرح وضو کرو، پھر مسجد کا ارادہ کر کے نکلو تو اپنی انگلیوں میں تشبیک نہ دو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْمُجَوِّزُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ، ثنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ الْحَنَّاطِ قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ وَأَنَا مُتَوَجِّهٌ إِلَى الْمَسْجِدِ أُشَبِّكُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ، فَلَا يُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ وَأَبُوعَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو ثمامہ حناط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور میں اپنی انگلیوں میں تشبیک دیے مسجد کی طرف جا رہا تھا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے پھر مسجد میں آئے تو وہ اپنی انگلیوں میں تشبیک نہ دے کیونکہ وہ نماز میں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ، فَلَا يُشَبِّكَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ أَوْ بَعْدَمَا يَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے، پھر نماز کی طرف نکلے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔ تم میں سے کوئی اپنی انگلیوں میں تشبیک نہ دے، وضو کرنے اور مسجد میں داخل ہونے کے بعد۔“
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی انگلیاں نماز میں ایک دوسرے کے مخالف نہ کرے۔“ مراد تشبیک ہی ہے۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی انگلیاں نماز میں ایک دوسرے کے مخالف نہ کرے۔“ مراد تشبیک ہی ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ، أنبأ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ الْبَزِّيِّ قَالَ: خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، فَصَحَبْتُ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ، فَنَظَرَ إِلَيَّ وَأَنَا أُشَبِّكُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ: " لَا تُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نُشَبِّكَ بَيْنَ أَصَابِعِنَا فِي الصَّلَاةِ ". فَقُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ فِي صَلَاةٍ، قَالَ: " أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ وَخَرَجْتَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ؟ " قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: " فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ ". وَرَوَاهُ أَيْضًا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ، فَعَادَ الْحَدِيثُ إِلَى الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ. . قَالَ الشَّيْخُ: فِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ النَّهْيَ عَنْ ذَلِكَ وَقَعَ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنَّ كَعْبًا أَدْخَلَ فِيهِ الْخَارِجَ إِلَى الصَّلَاةِ بِمَا ذَكَرَ مِنَ الدَّلِيلِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَلَى اللَّفْظَةِ الْأُولَى.
حافظ ثناء اللہ
ابو ثمامہ برّی بیان کرتے ہیں کہ میں نماز کے ارادے سے نکلا، میں کعب عجرہ رضی اللہ عنہ کو ملا۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور میں نے انگلیوں میں تشبیک دی ہوئی تھی۔ وہ کہنے لگے: ”اپنی انگلیوں میں تشبیک نہ دو کیونکہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نماز کی حالت میں انگلیوں میں تشبیک دینے سے منع کیا ہے۔“ میں نے کہا: میں نماز میں نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے: کیا آپ وضو کر کے نماز کے ارادے سے نہیں نکلے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: ”آپ نماز میں ہیں۔“
شیخ فرماتے ہیں: نہی اس کے لیے ہے جو نماز میں شامل ہو اور کعب عجرہ رضی اللہ عنہ نے اس میں نماز سے خارج کو شامل کیا ہے، اس دلیل کی وجہ سے جو انہوں نے ذکر کی۔
شیخ فرماتے ہیں: نہی اس کے لیے ہے جو نماز میں شامل ہو اور کعب عجرہ رضی اللہ عنہ نے اس میں نماز سے خارج کو شامل کیا ہے، اس دلیل کی وجہ سے جو انہوں نے ذکر کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَمْرُو بْنُ قُسَيْطٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " يَا كَعْبُ، إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجْتَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلَا تُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، فَإِنَّكَ فِي صَلَاةٍ ". هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ إِنْ كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّقِّيُّ هَذَا حَفَظَهُ، وَلَمْ أَجِدْ لَهُ فِيمَا رَوَاهُ مِنْ ذَلِكَ بَعْدُ مُتَابِعًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے کعب! جب تو وضو کرے تو اچھی طرح وضو کر اور جب آپ مسجد کی طرف جائیں تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ دینا؛ کیونکہ آپ نماز میں ہیں۔“