السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: لا يشبك بين أصابعه إذا خرج إلى الصلاة باب: جب نماز کے لیے نکلے تو اپنی انگلیوں میں انگلیاں نہ ڈالے (تشبیک نہ کرے)
حدیث نمبر: 5883
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ، فَلَا يُشَبِّكَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ أَوْ بَعْدَمَا يَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ ".حافظ ثناء اللہ
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے، پھر نماز کی طرف نکلے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔ تم میں سے کوئی اپنی انگلیوں میں تشبیک نہ دے، وضو کرنے اور مسجد میں داخل ہونے کے بعد۔“
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی انگلیاں نماز میں ایک دوسرے کے مخالف نہ کرے۔“ مراد تشبیک ہی ہے۔