أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ ⦗٣٢٧⦘ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْلِسْ؛ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ ". قَالَ أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ: " وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ مَعَهُ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن ایک جانب بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا تو وہ لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ رہا تھا، اس سے نبی ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جا، تو نے اذیت دی اور تو نے تاخیر کی“۔ ابو زاہریہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم امام کے نکلنے تک آپس میں بات چیت کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمَسَّ مِنْ طِيبِ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ لَهَا، وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ لَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ، وَلَمْ يَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهُمَا، وَمَنْ لَغَا وَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، كَانَتْ لَهُ ظُهْرًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور اپنی بیوی کی خوشبو لگائی اور اچھے کپڑے پہنے، پھر اس نے لوگوں کی گردنوں کو نہیں پھلاندا اور خطبہ کے وقت لغو بات بھی نہیں کی تو یہ عمل دونوں جمعہ کے درمیان والے وقفہ کا کفارہ بن جائے گا اور جس نے لغو بات کی اور لوگوں کی گردنوں کو پھلاندا اس کے لیے ظہر (کا ثواب) ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاسْتَاكَ، وَلَبِسَ أَحْسَنَ ثِيَابِهِ، وَتَطَيَّبَ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ، وَصَلَّى، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ أَنْصَتَ، كَانَ لَهُ كَفَّارَةً مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور مسواک کی اور اچھے کپڑے پہنے اور اپنے گھر والوں کی خوشبو لگائی، پھر وہ مسجد میں آتا ہے لیکن لوگوں کی گردنیں نہیں روندتا اور نماز پڑھتا ہے، جب امام آ جائے تو وہ خاموش ہو جاتا ہے، تو یہ عمل دو جمعوں کے درمیانی وقفہ کا کفارہ بن جائے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " لَأَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمْ بِظَهْرِ الْحَرَّةِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَقْعُدَ، حَتَّى إِذَا قَامَ الْإِمَامُ يَخْطُبُ جَاءَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: تم میں سے کسی کا حرہ کی پتھریلی زمین پر نماز پڑھ لینا اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ (گھر میں) بیٹھا رہے، یہاں تک کہ جب امام خطبہ کے لیے کھڑا ہو تو وہ آئے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا پھرے۔