السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: لا يشبك بين أصابعه إذا خرج إلى الصلاة باب: جب نماز کے لیے نکلے تو اپنی انگلیوں میں انگلیاں نہ ڈالے (تشبیک نہ کرے)
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ، أنبأ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ الْبَزِّيِّ قَالَ: خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، فَصَحَبْتُ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ، فَنَظَرَ إِلَيَّ وَأَنَا أُشَبِّكُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ: " لَا تُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نُشَبِّكَ بَيْنَ أَصَابِعِنَا فِي الصَّلَاةِ ". فَقُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ فِي صَلَاةٍ، قَالَ: " أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ وَخَرَجْتَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ؟ " قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: " فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ ". وَرَوَاهُ أَيْضًا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ، فَعَادَ الْحَدِيثُ إِلَى الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ. . قَالَ الشَّيْخُ: فِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ النَّهْيَ عَنْ ذَلِكَ وَقَعَ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنَّ كَعْبًا أَدْخَلَ فِيهِ الْخَارِجَ إِلَى الصَّلَاةِ بِمَا ذَكَرَ مِنَ الدَّلِيلِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَلَى اللَّفْظَةِ الْأُولَى.ابو ثمامہ برّی بیان کرتے ہیں کہ میں نماز کے ارادے سے نکلا، میں کعب عجرہ رضی اللہ عنہ کو ملا۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور میں نے انگلیوں میں تشبیک دی ہوئی تھی۔ وہ کہنے لگے: ”اپنی انگلیوں میں تشبیک نہ دو کیونکہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نماز کی حالت میں انگلیوں میں تشبیک دینے سے منع کیا ہے۔“ میں نے کہا: میں نماز میں نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے: کیا آپ وضو کر کے نماز کے ارادے سے نہیں نکلے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: ”آپ نماز میں ہیں۔“
شیخ فرماتے ہیں: نہی اس کے لیے ہے جو نماز میں شامل ہو اور کعب عجرہ رضی اللہ عنہ نے اس میں نماز سے خارج کو شامل کیا ہے، اس دلیل کی وجہ سے جو انہوں نے ذکر کی۔