کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جو سلام کا جواب دینے اور چھینکنے والے کا جواب دینے (یرحمک اللہ کہنے) کا قائل ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغِنْدِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَرَدِّ السَّلَامِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَنَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةِ بْنِ عُقْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع کیا: ”بیمار کی تیمار داری کرنے، جنازہ پڑھنے، سلام کا جواب دینے، دعوت قبول کرنے، قسم کو پورا کرنے، چھینک کا جواب دینے اور مظلوم کی مدد کرنے“ کا حکم دیا۔ اور ”سونے کی انگوٹھی پہننے، چاندی کے برتن میں پینے، ہر قسم کا ریشم پہننے، ریشم کی گدی پر بیٹھنے اور ریشم کے سرخ زین استعمال کرنے“ سے منع فرمایا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرَيْشٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ ⦗٣١٦⦘ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسَةٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ: رَدُّ السَّلَامِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجِنَازَةِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَشَارَ إِلَيْهِ الْبُخَارِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ چیزیں مسلمان کا مسلمان پر حق ہیں: سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا، بیمار کی تیمار داری کرنا، جنازہ پڑھنا اور دعوت کو قبول کرنا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُشَمَّتُ " وَهَذَا مُرْسَلٌ وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ مِنْ قَوْلِهِ، وَعَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي رَدِّ السَّلَامِ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَرِهَهُ، وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ فِي السَّلَامِ: يَرُدُّ فِي نَفْسِهِ، وَسُئِلَ عَنِ التَّشْمِيتِ فَنَهَى عَنْهُ، وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ فِي السَّلَامِ أَنَّهُ كَانَ يَرُدُّ إِيمَاءً وَلَا يَتَكَلَّمُ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی چھینک لے اور امام جمعہ کے دن خطبہ دے رہا ہو تو اس کا جواب دو۔“
یہ روایت مرسل ہے۔
(ب) یہ بات حسن رحمہ اللہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر بھی مروی ہے، اور سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے سلام کا جواب دینے کے بارے میں، اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے چھینک کا جواب دینے اور سلام کا جواب دینے کے بارے میں مروی ہے، اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے اسے ناپسند کیا۔ اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سلام کے بارے میں فرمایا: دل ہی دل میں جواب دے، اور ان سے چھینک کے جواب کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس سے منع کر دیا۔ اور ابن سیرین رحمہ اللہ سلام کا جواب اشارے سے دیتے تھے اور کلام نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے۔
(ب) یہ بات حسن رحمہ اللہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر بھی مروی ہے، اور سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے سلام کا جواب دینے کے بارے میں، اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے چھینک کا جواب دینے اور سلام کا جواب دینے کے بارے میں مروی ہے، اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے اسے ناپسند کیا۔ اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سلام کے بارے میں فرمایا: دل ہی دل میں جواب دے، اور ان سے چھینک کے جواب کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس سے منع کر دیا۔ اور ابن سیرین رحمہ اللہ سلام کا جواب اشارے سے دیتے تھے اور کلام نہیں کرتے تھے۔