کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس شخص کی دلیل جس نے یہ گمان کیا کہ امام کے لیے خاموش رہنا اختیاری ہے اور امام کے خطبہ دینے کے دوران اپنے یا کسی دوسرے کے مطلب کی بات کرنا مباح ہے
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَارِمٌ، وَسُلَيْمَانُ، وَمُسَدَّدٌ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: " صَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟ " قَالَ: لَا قَالَ: " قُمْ فَارْكَعْ ". لَفْظُ عَارِمٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَارِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي رَبِيعٍ عَنْ حَمَّادٍ وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ وَجَمَاعَةٍ فِي بَابِ كَلَامِ الْإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ، وَحَدِيثُ الرَّجُلِ الَّذِي طَلَبَ مَخْرَجًا فِي كِتَابِ الِاسْتِسْقَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص آیا اور نبی ﷺ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھڑا ہو اور نماز پڑھ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5838
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم 5689»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ النَّاسَ فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ، فَادْعُ اللهَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي يَدَيْهِ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَتْ سَحَابٌ كَأَمْثَالِ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنِ الْمِنْبَرِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَمِنَ الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ رَجُلٌ غَيْرُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللهَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اللهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا " قَالَ: فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ حَتَّى صَارَتِ ⦗٣١٤⦘ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْحَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ مِنَ النَّوَاحِي إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں لوگوں کو قحط سالی کا سامنا تھا۔ نبی ﷺ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مال تباہ ہو گئے اور لوگ بھوکے ہیں، آپ ﷺ اللہ سے دعا کریں“ تو نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے اور ہم نے آسمان پر بادل کا ٹکڑا بھی نہیں دیکھا تھا۔ اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ آسمان پر پہاڑوں کی مانند بادل پیدا ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ منبر سے نہیں اترے کہ بارش شروع ہو گئی اور اس کے قطرے آپ ﷺ کی داڑھی سے گر رہے تھے، تو اس دن اور اگلے دن بارش ہوئی اور اس سے اگلے دن بھی، یہاں تک کہ دوسرے جمعہ تک۔ پھر وہی دیہاتی یا کوئی دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! گھر گر گئے اور لوگ بھوکے رہے، آپ ﷺ اللہ سے دعا کریں“ تو نبی ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! اس (بارش) کو ہم سے پھیر دے (ہمارے اردگرد برسا)۔“ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو بادل بالکل صاف ہو گئے اور مدینہ بادلوں سے خالی ہو گیا اور ایک ماہ تک ندی نالے بہتے رہے اور جو بھی مدینہ کے گرد و نواح سے آتا وہ بارش کے بارے میں بیان کرتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5839
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 890»
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذِلِ بْنِ عَلِيٍّ ثنا أَبُو مَرْوَانَ يَعْنِي الْعُثْمَانِيَّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ بِخَيْبَرَ لِيَقْتُلُوهُ فَقَتَلُوهُ وَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ: " أَفْلَحْتِ الْوُجُوهُ " فَقَالُوا: أَفْلَحَ وَجْهُكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " أَقَتَلْتُمُوهُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ فَدَعَا بِالسَّيْفِ الَّذِي قُتِلَ بِهِ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَلَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجَلْ، هَذَا طَعَامُهُ فِي ذُبَابِ السَّيْفِ " وَكَانَ الرَّهْطُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ عَتِيكٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ، وَأَسْوَدُ بْنُ خُزَاعِيٍّ حَلِيفٌ لَهُمْ، وَأَبُو قَتَادَةَ فِيمَا يَظُنُّ الزُّهْرِيُّ، وَلَا يَحْفَظُ الزُّهْرِيُّ الْخَامِسَ. وَهَذَا وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا فَهُوَ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ، وَهَذِهِ قِصَّةٌ مَشْهُورَةٌ فِيمَا بَيْنَ أَرْبَابِ الْمَغَازِي، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ فَذَكَرَا هَذِهِ الْقِصَّةِ وَذَكَرَا مَعَ هَؤُلَاءِ مَسْعُودَ بْنَ سِنَانٍ..
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ گروہ جسے نبی ﷺ نے ابن ابی الحقیق کی طرف روانہ کیا تھا تاکہ اسے قتل کر دیں، انہوں نے اسے قتل کر دیا اور نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ نبی ﷺ نے جب انہیں دیکھا تو فرمایا: «أَفْلَحَتِ الْوُجُوهُ» ”چہرے کامیاب ہو گئے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کو خوشخبری ہو۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے وہ تلوار منگوائی جس سے اسے قتل کیا گیا تھا، آپ ﷺ اس وقت منبر پر ہی تھے۔ آپ ﷺ نے اسے سونتا اور فرمایا: «أَجَلْ، هَذَا طَعَامُهُ فِي ذُبَابِ السَّيْفِ» ”ہاں، یہ تلوار کی دھار پر اس کا کھانا (لگا ہوا) ہے۔“ اور گروہ میں عبداللہ بن عتیک اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہما، اسود بن خزاعی رضی اللہ عنہ (ان کے حلیف تھے) اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی زہری رحمہ اللہ کے گمان کے مطابق شامل تھے، لیکن زہری رحمہ اللہ کو پانچویں کا نام یاد نہیں۔
یہ روایت اگرچہ مرسل ہے لیکن عمدہ مرسل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5840
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ عبد الرزاق 9747»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَذَكَرَا هَذِهِ الْقِصَّةَ. وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْصُولًا مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5841
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْخَالِقِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْتُ وَهُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ: " أَفْلَحَ الْوَجْهُ " قُلْتُ: وَوَجْهُكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَأفْلَحْ " وَرُوِيَ ذَلِكَ بِتَمَامِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
ابن عبداللہ بن انیس اپنے والد سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ابن ابی الحقیق کی طرف روانہ کیا، جب میں واپس آیا تو نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چہرہ کامیاب ہو گیا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ کو خوشخبری ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5842
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو ⦗٣١٥⦘ الْمُوَجِّهِ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمَّا دَنَوْتُ مِنْ مَدِينَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي وَحَلَلْتُ عَيْبَتِي فَلَبَسْتُ حُلَّتِي فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَسَلَّمَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ فَقُلْتُ لِجَلِيسِي: يَا عَبْدَ اللهِ هَلْ ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِي شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، ذَكَرَكَ بِأَحْسَنِ الذِّكْرِ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ فَقَالَ: " إِنَّهُ سَيَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ وَإِنَّ عَلَى وَجْهِهِ لَمَسْحَةُ مَلَكٍ". فَحَمِدْتُ اللهَ عَلَى مَا أَبْلَانِي".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب آیا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا، اپنا تھیلا کھولا اور حلہ پہن لیا، پھر میں نبی ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، نبی ﷺ نے مجھے سلام کہا تو لوگ مجھے گھور رہے تھے، میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا: اے اللہ کے بندے! کیا اللہ کے رسول ﷺ نے میرے بارے میں کچھ ذکر کیا ہے؟ اس نے کہا: اچھا تذکرہ کیا، جب دورانِ خطبہ کوئی بات پیش کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”عنقریب اس دروازے یا اسی راستہ سے یمن کا بہترین آدمی آئے گا اور اس کے چہرے پر فرشتے کا چوکا ہوگا۔“ میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اس انعام پر جو اس نے مجھ پر کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5843
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ احمد 4/359»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا كَانَ إِلَّا الْوُضُوءُ " قَالَ: وَالْوُضُوءُ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہو کر جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، انہوں نے کہا: یہ کون سی گھڑی ہے؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تو صرف وضو کیا ہے (اسی میں دیر ہوئی)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وضو بھی ٹھیک ہے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ”غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5844
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ معني تخريجه في كتاب الاغتسال»
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ لِرَجُلٍ: " هَلِ اشْتَرَيْتَ لِأَهْلِنَا هَذَا أَوْ أَشَارَ بِطَرَفِ أُصْبُعِهِ يَعْنِي الْخُطْبَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
عمران بن موسیٰ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو مخاطب کیا اور پوچھا: کیا تو نے ہمارے گھر والوں کے لیے یہ خریداری کی ہے؟ یا اپنی انگلی کے کنارے سے اشارہ کیا، یعنی (یہ) خطبہ (کے دوران تھا)۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5845
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»