السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: من قال برد السلام وتشميت العاطس باب: اس شخص کا قول جو سلام کا جواب دینے اور چھینکنے والے کا جواب دینے (یرحمک اللہ کہنے) کا قائل ہے
حدیث نمبر: 5846
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغِنْدِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَرَدِّ السَّلَامِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَنَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةِ بْنِ عُقْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع کیا: ”بیمار کی تیمار داری کرنے، جنازہ پڑھنے، سلام کا جواب دینے، دعوت قبول کرنے، سچی قسم کھانے، چھینک کا جواب دینے اور مظلوم کی مدد کرنے“ کا حکم دیا۔ اور ”سونے کی انگوٹھی پہننے، چاندی کے برتن میں پینے، ہر قسم کا ریشم پہننے، ریشم کی گدی پر بیٹھنے اور ریشم کے سرخ زین استعمال کرنے“ سے منع فرمایا۔