السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: من قال برد السلام وتشميت العاطس باب: اس شخص کا قول جو سلام کا جواب دینے اور چھینکنے والے کا جواب دینے (یرحمک اللہ کہنے) کا قائل ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُشَمَّتُ " وَهَذَا مُرْسَلٌ وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ مِنْ قَوْلِهِ، وَعَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي رَدِّ السَّلَامِ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَرِهَهُ، وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ فِي السَّلَامِ: يَرُدُّ فِي نَفْسِهِ، وَسُئِلَ عَنِ التَّشْمِيتِ فَنَهَى عَنْهُ، وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ فِي السَّلَامِ أَنَّهُ كَانَ يَرُدُّ إِيمَاءً وَلَا يَتَكَلَّمُ ".(الف) حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی چھینک لے اور امام جمعہ کے دن خطبہ دے رہا ہو تو اس کا جواب دو۔“
یہ روایت مرسل ہے۔
(ب) یہ بات حسن رحمہ اللہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر بھی مروی ہے، اور سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے سلام کا جواب دینے کے بارے میں، اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے چھینک کا جواب دینے اور سلام کا جواب دینے کے بارے میں مروی ہے، اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے اسے ناپسند کیا۔ اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سلام کے بارے میں فرمایا: دل ہی دل میں جواب دے، اور ان سے چھینک کے جواب کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس سے منع کر دیا۔ اور ابن سیرین رحمہ اللہ سلام کا جواب اشارے سے دیتے تھے اور کلام نہیں کرتے تھے۔