أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يِسَافٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ رَاشِدٍ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ ". هَكَذَا رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، وَخَالَفَهُ حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَوَاهُ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ.
حافظ ثناء اللہ
وابصۃ بن معبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا، وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ ”وہ اپنی نماز کو دہرائے۔“
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصُّفُوفِ وَحْدَهُ، فَأَمَرَهُ فَأَعَادَ الصَّلَاةَ ".
حافظ ثناء اللہ
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ ”وہ نماز دوبارہ پڑھے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ فَأَقَامَنِي عَلَى رَجُلٍ بِالرَّقَّةِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي هَذَا: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ "، وَاسْمُهُ وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيُّ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ حُصَيْنٍ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ.
حافظ ثناء اللہ
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی العبد نے میرا ہاتھ پکڑا اور ایک شخص کے ساتھ رقہ میں کھڑا کر دیا، پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو آپ ﷺ نے اس کو ”نماز لوٹانے“ کا حکم دیا۔ یہ وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ وَابِصَةَ: " أَنَّ رَجُلًا صَلَّى خَلْفَ الصُّفُوفِ وَحْدَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ ". وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَابِصَةَ.
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن ابی الجعد، وابصہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صفوں کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ”وہ نماز لوٹائے۔“
یہ روایت ایک ضعیف سند سے شعبی کے واسطے سے وابصہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
یہ روایت ایک ضعیف سند سے شعبی کے واسطے سے وابصہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَابِصَةَ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَلَّى خَلْفَ الصُّفُوفِ وَحْدَهُ فَقَالَ: " أَيُّهَا الْمُصَلِّي وَحْدَهُ، أَلَا وَصَلْتَ إِلَى الصَّفِّ، أَوْ جَرَرْتَ إِلَيْكَ رَجُلًا فَقَامَ مَعَكَ، أَعِدِ الصَّلَاةَ ". تَفَرَّدَ بِهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ.
حافظ ثناء اللہ
وابصہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا، وہ صفوں کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اکیلے نماز پڑھنے والے! تو صف میں کیوں نہ ملا؟“ فرمایا: ”تو نے کسی شخص کو کھینچ کیوں نہ لیا جو تیرے ساتھ ہوتا؟ تم نماز دوبارہ پڑھو۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں سری بن اسماعیل منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں۔
اس روایت کو بیان کرنے میں سری بن اسماعیل منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں۔
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، رَفَعَهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ جَاءَ رَجُلٌ فَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا فَلْيَخْتَلِجْ إِلَيْهِ رَجُلًا مِنَ الصَّفِّ فَلْيَقُمْ مَعَهُ فَمَا أَعْظَمَ أَجْرَ الْمُخْتَلَجِ ". أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ. وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَمْرِ بِالْإِعَادَةِ.
حافظ ثناء اللہ
مقاتل بن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص آئے اور کسی کو نہ پائے تو وہ صف سے آدمی کو کھینچ لے، وہ اس کے ساتھ کھڑا ہو تو کھینچے جانے والے کا اجر بہت زیادہ ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو النُّعْمَانِ، وَالْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالُوا: ثنا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ وَكَانَ أَحَدَ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُحَيْمٍ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَلَمَحَ بِمُؤَخَّرِ عَيْنَيْهِ فَرَأَى رَجُلًا لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ لَا صَلَاةَ لِامْرِئٍ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن شیبان رضی اللہ عنہما سے نقل ہے کہ وہ بنی سحیم کے وفد میں تھے جو نبی ﷺ کے پاس آیا۔ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ ایک نماز پڑھی تو نبی ﷺ نے ایک آدمی پر ترچھی نظر ڈالی، وہ رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کر رہا تھا۔ جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے لوگو! اس آدمی کی نماز نہیں جو رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، فَقَالَ: " صَلَاتُهُ تَامَّةٌ، وَلَيْسَ لَهُ تَضْعِيفٌ ". قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ لَا يَكُونُ لَهُ تَضْعِيفُ الْأَجْرِ بِالْجَمَاعَةِ، وَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَى فَضْلَ الْجَمَاعَةِ، وَأَمَرَهُ بِالْإِعَادَةِ لِتَحْصُلَ لَهُ زِيَادَةٌ وَلَا يَعُودَ إِلَى تَرْكِ السُّنَّةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ، ابراہیم سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جو صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھے کہ انہوں نے فرمایا: ”اس کی نماز مکمل ہے لیکن اس کے لیے زیادہ اجر نہیں۔“
نوٹ: شیخ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جماعت سے زائد اجر کی نفی کی ہے، دوبارہ پڑھنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ زائد اجر حاصل کر سکے۔
نوٹ: شیخ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جماعت سے زائد اجر کی نفی کی ہے، دوبارہ پڑھنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ زائد اجر حاصل کر سکے۔