أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، بِالْكُوفَةِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِنَيْسَابُورَ قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي حُنَيْنٍ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ قَالَ: " كُنَّا مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي الصَّفِّ، فَرَمَوْا بِنَا حَتَّى أُلْقِينَا بَيْنَ السَّوَارِي فَتَأَخَّرَ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: " قَدْ كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالحمید بن محمود فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ صف میں تھے، انہوں نے ہمیں ستونوں کے درمیان دھکیل دیا وہ پیچھے ہو گئے، جب نماز پڑھی تو فرمانے لگے: ہم ان سے نبی ﷺ کے دور میں بچا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " كُنَّا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُطْرَدُ طَرْدًا أَنْ نَقُومَ بَيْنَ السَّوَارِي فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ ”ہم نماز میں ستونوں کے درمیان کھڑے ہوں۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْدِي كَرِبَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَصُفُّوا بَيْنَ السَّوَارِي " وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، فَقَالَ فِي مَتْنِهِ: لَا تَصُفُّوا بَيْنَ الْأَسَاطِينِ. وَهَذَا وَاللهُ أَعْلَمُ، لِأَنَّ الْأُسْطُوَانَةَ تَحُولُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ وَصْلِ الصَّفِّ، فَإِنْ كَانَ مُنْفَرِدًا أَوْ لَمْ يُجَاوِزُوا مَا بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ لَمْ يُكْرَهْ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ستونوں کے درمیان صفیں نہ بناؤ۔“
(ب) ابو اسحاق کی حدیث میں ہے: ”تم ستونوں کے درمیان صفیں نہ بناؤ۔“
نوٹ: ستون صف کو ملانے میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔ اگر اکیلا آدمی ہو یا ستون کے بعد صف نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔
(ب) ابو اسحاق کی حدیث میں ہے: ”تم ستونوں کے درمیان صفیں نہ بناؤ۔“
نوٹ: ستون صف کو ملانے میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔ اگر اکیلا آدمی ہو یا ستون کے بعد صف نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔