السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية الوقوف خلف الصف وحده باب: صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہونے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5214
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، فَقَالَ: " صَلَاتُهُ تَامَّةٌ، وَلَيْسَ لَهُ تَضْعِيفٌ ". قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ لَا يَكُونُ لَهُ تَضْعِيفُ الْأَجْرِ بِالْجَمَاعَةِ، وَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَى فَضْلَ الْجَمَاعَةِ، وَأَمَرَهُ بِالْإِعَادَةِ لِتَحْصُلَ لَهُ زِيَادَةٌ وَلَا يَعُودَ إِلَى تَرْكِ السُّنَّةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
مغیرہ، ابراہیم سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس اکیلے نے صف کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی نماز مکمل ہے لیکن اس کے لیے زیادہ اجر نہیں۔“
نوٹ: شیخ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جماعت سے زائد اجر کی نفی کی ہے، دوبارہ پڑھنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ زائد اجر حاصل کر سکے۔