أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، فَرُبَّمَا تَحْضُرُهُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ، ثُمَّ يُنْضَحُ، ثُمَّ يَقُومُ فَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا ". قَالَ: وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ، وَأَبِي الرَّبِيعِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے، جب نماز کا وقت ہوجاتا اور آپ ﷺ ہمارے گھر میں ہوتے تو چٹائی بچھانے کا حکم فرماتے جو آپ ﷺ کے نیچے ہوتی، اسے جھاڑو دیا جاتا، اس پر پانی چھڑکا جاتا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوتے، ہم بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوجاتے، آپ ﷺ ہمیں نماز پڑھا دیتے اور وہ چٹائی کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فِي بَيْتِهِ الْمَغْرِبَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ، قَرَأَ وَالْمُرْسَلَاتِ، مَا صَلَّى بَعْدَهَا صَلَاةً حَتَّى قُبِضَ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیماری کے ایام میں اپنے گھر میں ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، آپ ﷺ پر صرف ایک کپڑا تھا جو آپ ﷺ نے لپیٹا ہوا تھا اور آپ ﷺ نے ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ﴾ [سورة المرسلات: 1] پڑھی، اس کے بعد آپ ﷺ نے کوئی نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
یہ سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ قَالَا: أَتَيْنَا ⦗٩٥⦘ عَبْدَ اللهِ فِي دَارِهِ، قَالَ: " صَلَّى هَؤُلَاءِ خَلْفَكُمْ؟ " قُلْنَا: لَا، قَالَ: " قُومُوا فَصَلُّوا " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صَلَاتِهِ بِهِمَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسٍ فِي ذَلِكَ فِي بَابِ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الْعَصْرِ، وَسَنَرْوِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
اسود اور علقمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر آئے۔ وہ کہنے لگے: ”کیا ان لوگوں نے تمہارے بعد نماز پڑھ لی؟“ ہم نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔“ انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسود اور علقمہ کے ساتھ ہی نماز پڑھی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِيُّ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ أَوْ مَمْلُوكًا دَعَا أَبَا ذَرٍّ وَحُذَيْفَةَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ تَقَدَّمَ أَبُو ذَرٍّ لِيُصَلِّيَ بِهِمْ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: تَأَخَّرْ يَا أَبَا ذَرٍّ. فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: أَكَذَاكَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، أَوْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَتَأَخَّرَ ". قَالَ سُلَيْمَانُ: يَعْنِي أَنَّ الرَّجُلَ أَحَقُّ بِبَيْتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
انصار کے غلام ابوسعید نے ابوذر رضی اللہ عنہ، حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کو بلایا، جب نماز کا وقت ہوا تو ابوذر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تاکہ نماز پڑھائیں، ان کو تو حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے ابوذر! پیچھے ہٹو۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے ابن مسعود! اے ابوعبدالرحمن! کیا ایسے ہی ہے؟“ تو وہ کہنے لگے: ”ہاں۔“ تو ابوذر رضی اللہ عنہ واپس ہو گئے۔ سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ: ”بندہ اپنے گھر میں زیادہ حق رکھتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُوسَى الصَّغِيرِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ " أَنَّهُ صَنَعَ طَعَامًا فَدَعَا إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ، وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ، وَسَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ، وَذَرًّا، وَأُنَاسًا مِنْ وُجُوهِ الْقُرَّاءِ، فَأَمَرَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ فَقَصَّ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلُّوا فِي الْبُيُوتِ فِي جَمَاعَةٍ وَلَمْ يَخْرُجُوا إِلَى الْمَسْجِدِ، ثُمَّ جَاءَهُمْ بِالطَّعَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ صغیر رحمہ اللہ، حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کھانا بنایا تو ابراہیم نخعی رحمہ اللہ، ابراہیم تیمی رحمہ اللہ، سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ اور چند بچے اور لوگ تھے، انہوں نے ابراہیم تیمی رحمہ اللہ سے کہا کہ وہ ان کو بیان کریں۔ پھر نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے اپنے گھروں میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھی، مسجد میں نہیں آئے۔ پھر ان کے پاس کھانا لایا گیا۔