السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من جمع في بيته باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنے گھر میں باجماعت نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 4992
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، فَرُبَّمَا تَحْضُرُهُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ، ثُمَّ يُنْضَحُ، ثُمَّ يَقُومُ فَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا ". قَالَ: وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ، وَأَبِي الرَّبِيعِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے، جب نماز کا وقت ہوجاتا اور آپ ﷺ ہمارے گھر میں ہوتے تو چٹائی بچھانے کا حکم فرماتے جو آپ ﷺ کے نیچے ہوتی، اسے جھاڑو دیا جاتا، اس پر پانی چھڑکا جاتا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوتے، ہم بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوجاتے، آپ ﷺ ہمیں نماز پڑھا دیتے اور وہ چٹائی کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی۔