کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: فجر کی دو رکعتوں کے بعد لیٹنے کے بارے میں مروی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَعْمَرٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَخَالَفَهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فَذَكَرَ الِاضْطِجَاعَ بَعْدَ الْوِتْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب فجر طلوع ہوتی تو رسول اللہ ﷺ دو ہلکی سی رکعات ادا کرتے۔ پھر مؤذن کے آنے تک دائیں کروٹ لیٹ جاتے۔
(ب) مالک بن انس رحمہ اللہ نے ان کی مخالفت کی ہے کہ آپ ﷺ وتر کے بعد لیٹتے تھے۔
(ب) مالک بن انس رحمہ اللہ نے ان کی مخالفت کی ہے کہ آپ ﷺ وتر کے بعد لیٹتے تھے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، كَذَا قَالَهُ مَالِكٌ، وَالْعَدَدُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ، وَقَدْ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَا مَحْفُوظَيْنِ فَنَقَلَ مَالِكٌ أَحَدَهُمَا، وَنَقَلَ الْبَاقُونَ الْآخَرَ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو گیارہ رکعات پڑھتے اور ان میں سے ایک رکعت وتر ہوتی، جب آپ ﷺ اس سے فارغ ہوتے تو مؤذن کے آنے تک دائیں جانب لیٹ جاتے، پھر دو ہلکی سی دو رکعات ادا کرتے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَدَّادُ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَرَّاقُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ ". وَرَوَاهُ غَيْرِهِ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُوسَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْقَطِعًا، كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَاتِ وَقَدْ مَضَى فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ اضْطِجَاعِهِ كَانَ بَعْدَ الْوِتْرِ، وَقَدْ يَحْتَمِلُ ذَلِكَ مَا احْتَمَلَ رِوَايَةُ مَالِكٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ جب فجر کی دو رکعات ادا کرتے تو لیٹ جاتے۔
دوسرے راویوں نے اسے شعبہ سے، انہوں نے موسیٰ سے، انہوں نے سعید سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے منقطع سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
دوسرے راویوں نے اسے شعبہ سے، انہوں نے موسیٰ سے، انہوں نے سعید سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے منقطع سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالُوا: ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ ". فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يُجْزِئُ أَحَدَنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ عَلَى يَمِينِهِ؟ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: لَا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى نَفْسِهِ، قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ اجْتَرَأَ وَجَبُنَّا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: فَمَا ذَنْبِي إِنْ كُنْتُ حَفِظْتُ وَنَسَوْا. وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ الْإِبَاحَةَ، فَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حِكَايَةً عَنْ فَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا خَبَرًا عَنْ قَوْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جب فجر کی دو رکعات پڑھ لے تو دائیں جانب لیٹ جائے۔“
(نوٹ) مروان بن حکم رحمہ اللہ نے ان سے کہا: کیا ہم میں سے کسی کا مسجد کی طرف چل کر جانا دائیں کروٹ لیٹنے سے کافی نہیں ہے؟ عبید اللہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں۔ یہ خبر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ملی تو وہ کہنے لگے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر (روایات کی) کثرت کر لی ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: کیا آپ ان کی کسی بات کا انکار کرتے ہیں؟ کہنے لگے: نہیں، لیکن انہوں نے جرأت کی اور ہم ڈر گئے۔ جب یہ بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو وہ فرمانے لگے: میرا کیا گناہ ہے اگر میں نے یاد رکھا اور وہ بھول گئے؟
(نوٹ) مروان بن حکم رحمہ اللہ نے ان سے کہا: کیا ہم میں سے کسی کا مسجد کی طرف چل کر جانا دائیں کروٹ لیٹنے سے کافی نہیں ہے؟ عبید اللہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں۔ یہ خبر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ملی تو وہ کہنے لگے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر (روایات کی) کثرت کر لی ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: کیا آپ ان کی کسی بات کا انکار کرتے ہیں؟ کہنے لگے: نہیں، لیکن انہوں نے جرأت کی اور ہم ڈر گئے۔ جب یہ بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو وہ فرمانے لگے: میرا کیا گناہ ہے اگر میں نے یاد رکھا اور وہ بھول گئے؟
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَهُوَ عَلَى الْمَدِينَةِ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْصِلُ بَيْنَ رَكْعَتَيْهِ مِنَ الْفَجْرِ وَبَيْنَ الصُّبْحِ بِضَجْعَةٍ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا أَوْلَى أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا لِمُوَافَقَتِهِ سَائِرَ الرِّوَايَاتِ عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو صالح سمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ مروان بن حکم سے، جب وہ مدینہ کے امیر تھے، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی دو رکعات اور صبح کی نماز کے درمیان دائیں کروٹ لیٹ کر فاصلہ کرتے تھے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِلَّا اضْطَجَعَ حَتَّى يَقُومَ إِلَى الصَّلَاةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي ⦗٦٥⦘ بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ خَارِجَ الْمُوَطَّأِ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ " عُقَيْبَ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَذَكَرَ اضْطِجَاعَهُ بَعْدَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی دو رکعات پڑھتے، اگر میں بیدار ہوتی تو مجھ سے باتیں کرتے ورنہ لیٹ جاتے، پھر نماز کے لیے چلے جاتے۔
(ب) امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے مؤطا کے علاوہ یہ حدیث ابو نضر سالم سے روایت کی اور اسے رات کی نماز کے فوراً بعد ذکر کیا اور ذکر کیا کہ آپ ﷺ ان دو رکعات کے بعد لیٹتے جو فجر کی دو رکعات سے پہلے ہوتیں۔
(ب) امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے مؤطا کے علاوہ یہ حدیث ابو نضر سالم سے روایت کی اور اسے رات کی نماز کے فوراً بعد ذکر کیا اور ذکر کیا کہ آپ ﷺ ان دو رکعات کے بعد لیٹتے جو فجر کی دو رکعات سے پہلے ہوتیں۔
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ نَظَرَ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً أَيْقَظَنِي وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ ". وَهَذَا بِخِلَافِ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کی نماز پوری فرماتے تو دیکھتے، اگر میں بیدار ہوتی تو مجھ سے باتیں کرتے اور اگر سوئی ہوئی ہوتی تو مجھے بیدار کر لیتے اور دو رکعت ادا کرتے، پھر مؤذن کے آنے تک لیٹ جاتے۔ مؤذن صبح کی نماز کی اطلاع دیتا تو آپ ﷺ دو خفیف رکعات ادا کرتے، پھر آپ ﷺ نماز کو چلے جاتے۔
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتَّابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ أَوْتَرَ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِلَّا اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُنَادِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب رات کی نماز پڑھ لیتے تو وتر پڑھتے، پھر دو رکعات پڑھتے، اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے باتیں کرتے، وگرنہ لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آ جاتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتَّابٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ فَقَالَ: عَنِ ابْنِ أَبِي عَتَّابٍ فَإِنَّ غَيْرَ ابْنِ عُيَيْنَةَ يَقُولُ فِي اسْمِهِ: زَيْدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ.
حافظ ثناء اللہ
یہ بھی سابقہ حدیث کی ایک سند ہے۔
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ ⦗٦٦⦘ وَبَيْنَ الْقِبْلَةَ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ حَرَّكَنِي بِرِجْلِهِ، وَكَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِلَّا اضْطَجَعَ حَتَّى يَقُومَ إِلَى الصَّلَاةِ ". قَالَ: وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: كَانَ سُفْيَانُ يَشُكُّ فِي حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ وَيَضْطَرِبُ فِيهِ، وَرُبَّمَا يَشُكُّ فِي حَدِيثِ زِيَادٍ وَيَقُولُ: تَخَلَّطَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ غَيْرَ مَرَّةٍ: حَدِيثُ أَبِي النَّضْرِ كَذَا، وَحَدِيثُ زِيَادٍ كَذَا، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو كَذَا، عَلَى مَا ذَكَرْتُ كُلَّ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کی نماز پڑھتے تو میں آپ ﷺ کے سامنے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی اور جب آپ ﷺ وتر کا ارادہ کرتے تو مجھے اپنے پاؤں سے حرکت دیتے اور آپ ﷺ دو رکعات پڑھتے تھے۔ اگر میں بیدار ہوتی تو مجھ سے باتیں کرتے ورنہ نماز کی طرف جانے تک لیٹے رہتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى قَالَا: ثنا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي مَكِينٍ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ " فَكَانَ لَا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلَّا نَادَاهُ بِالصَّلَاةِ أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ ". قَالَ زِيَادٌ: حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ.
حافظ ثناء اللہ
مسلم بن ابی بکرہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: میں نبی ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز کے لیے نکلا، آپ ﷺ جس آدمی کے پاس سے گزرتے، اس کو نماز کے لیے بلاتے یا پاؤں کے ذریعے حرکت دیتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِي قَالَ: رَأَى عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَوْمًا قَدِ اضْطَجَعُوا بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَسَلْهُمْ مَا حَمَلَهُمْ عَلَى مَا صَنَعُوا "، فَأَتَيْتُهُمْ وَسَأَلْتُهُمْ، فَقَالُوا: نُرِيدُ السُّنَّةَ قَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهَا بِدْعَةٌ ". وَقَدْ أَشَارَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى إِلَى أَنَّ الِاضْطِجَاعَ الْمُنْقُولَ فِيمَا مَضَى مِنَ الْأَخْبَارِ لِلْفَصْلِ بَيْنَ النَّافِلَةِ وَالْفَرِيضَةِ، ثُمَّ سَوَاءٌ كَانَ ذَلِكَ الْفَصْلُ بِالِاضْطِجَاعِ أَوِ التَّحْدِيثِ أَوِ التَّحَوُّلِ مِنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ أَوْ غَيْرِهِ، وَالِاضْطِجَاعُ غَيْرُ مُتَعَيِّنٍ لِذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوصدیق ناجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ دو رکعت پڑھنے کے بعد نماز فجر سے پہلے لیٹے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا: جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کس نے ان کو ابھارا ہے کہ وہ یہ کام کریں؟ میں نے آ کر ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم تو سنت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جاؤ اور ان سے کہہ دو: یہ بدعت ہے۔
(نوٹ) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرض اور نفل کے درمیان فاصلہ مقصود ہے، یہ لیٹنے یا بات چیت یا اس جگہ سے پھر جانے سے ہو سکتا ہے، لیٹنا متعین نہیں ہے۔
(نوٹ) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرض اور نفل کے درمیان فاصلہ مقصود ہے، یہ لیٹنے یا بات چیت یا اس جگہ سے پھر جانے سے ہو سکتا ہے، لیٹنا متعین نہیں ہے۔