حدیث نمبر: 4895
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِي قَالَ: رَأَى عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَوْمًا قَدِ اضْطَجَعُوا بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَسَلْهُمْ مَا حَمَلَهُمْ عَلَى مَا صَنَعُوا "، فَأَتَيْتُهُمْ وَسَأَلْتُهُمْ، فَقَالُوا: نُرِيدُ السُّنَّةَ قَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهَا بِدْعَةٌ ". وَقَدْ أَشَارَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى إِلَى أَنَّ الِاضْطِجَاعَ الْمُنْقُولَ فِيمَا مَضَى مِنَ الْأَخْبَارِ لِلْفَصْلِ بَيْنَ النَّافِلَةِ وَالْفَرِيضَةِ، ثُمَّ سَوَاءٌ كَانَ ذَلِكَ الْفَصْلُ بِالِاضْطِجَاعِ أَوِ التَّحْدِيثِ أَوِ التَّحَوُّلِ مِنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ أَوْ غَيْرِهِ، وَالِاضْطِجَاعُ غَيْرُ مُتَعَيِّنٍ لِذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابوصدیق ناجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ دو رکعت پڑھنے کے بعد نماز فجر سے پہلے لیٹے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا: جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کس نے ان کو ابھارا ہے کہ وہ یہ کام کریں؟ میں نے آ کر ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم تو سنت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جاؤ اور ان سے کہہ دو: یہ بدعت ہے۔
(نوٹ) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرض اور نفل کے درمیان فاصلہ مقصود ہے، یہ لیٹنے یا بات چیت یا اس جگہ سے پھر جانے سے ہو سکتا ہے، لیٹنا متعین نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4895