أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ (ح) قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ثنا قَتَادَةُ، ثنا زُرَارَةُ بْنُ أَوَفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَنْ؟ قَالَ: عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأْتِهَا فَسَلْهَا، ثُمَّ أَعْلِمْنِي مَا تَرُدُّ عَلَيْكَ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهَا فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَصْحَبْتُهُ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى عَائِشَةَ، فَاسْتَأْذَنَّا فَدَخَلْنَا، فَقَالَتْ: " مَنْ هَذَا؟ " قَالَ: حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ، فَقَالَتْ: " مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ " قُلْتُ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَتْ: " وَمَنْ هِشَامٌ؟ " قُلْتُ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَتْ: " نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ، أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ " قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: " فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ " قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي، فَقُلْتُ: " أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ " قَالَتْ: " أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: " فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى افْتَرَضَ الْقِيَامَ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، ⦗٧٠٤⦘ وَأَمْسَكَ اللهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ " قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي وِتْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: " كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ، ثُمَّ يَحْمَدُ رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ وَيَدَعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنِيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ، يَا بُنِيَّ، وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَلَبَهُ قِيَامُ اللَّيْلِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَّاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا قَطُّ كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ " فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَدِيثِهَا، فَقَالَ: صَدَقْتَ وَكَانَ أَوَّلَ أَمْرِ سَعْدٍ، قَالَ ابْنُ بِشْرٍ: يَعْنِي أَوَّلُ أَمْرِهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَةً، ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَبِيعُ عَقَارًا لَهُ بِهَا وَيَجْعَلُهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ، ثُمَّ يُجَاهِدُ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ فَبَلَغَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْهُمْ سِتَّةً أَرَادُوا وَذَلِكَ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، لَفْظُ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور وتر کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”کیا میں تجھے بتاؤں کہ تمام لوگوں سے بڑھ کر نبی ﷺ کے وتر کے متعلق کون جانتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: کون؟ فرمایا: ”عائشہ رضی اللہ عنہا، ان کے پاس جاؤ اور سوال کرو، جو جواب دیں مجھے بھی بتانا۔“ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف چلا اور راستے سے حکیم بن افلح کو ساتھ لے لیا۔ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اجازت لے کر داخل ہوئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ”یہ کون؟“ میں نے کہا: حکیم بن افلح۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ”آپ کے ساتھ کون؟“ میں نے کہا: سعد بن ہشام۔ کہنے لگیں: ”ہشام کون؟“ میں نے کہا: ابن عامر۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: ”عامر اچھا آدمی تھا، احد کے دن زخمی کیا گیا۔“ میں نے کہا: ام المؤمنین! آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں خبر دیں، فرمانے لگیں: ”کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تو تھا۔“
سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا، پھر مجھے (ایک اور سوال) سوجھا۔ میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے رسول اللہ ﷺ کے قیام کے بارے میں خبر دیں۔ فرمانے لگیں: ”کیا تو نے پڑھا نہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] اے کپڑا اوڑھنے والے!“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ فرمایا: ”اس سورہ کی ابتدا میں اللہ نے رات کا قیام فرض قرار دیا تو نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم ایک سال تک اتنا قیام کرتے کہ ان کے پاؤں سوج جاتے۔ اللہ نے اس حکم کو آسمانوں میں بارہ مہینے روکے رکھا، پھر اس سورہ کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی، قیام اللیل نفل ہوگیا۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے نبی ﷺ کا وتر یاد آ گیا۔ میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے نبی ﷺ کے وتر کے بارے میں بتاؤ۔ فرمانے لگیں: ”ہم نبی ﷺ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو رات کا جتنا حصہ بیدار کرنا چاہتے کردیتے، آپ ﷺ مسواک اور وضو کرتے، پھر آپ ﷺ نو رکعات پڑھتے، صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے نبی ﷺ پر درود پڑھتے، پھر کھڑے ہوجاتے اور سلام نہیں پھیرتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نویں رکعت پڑھتے اور بیٹھ جاتے، پھر اللہ کی حمد بیان کرتے اور اس کے نبی ﷺ پر درود پڑھتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے۔ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے تھے، یہ گیارہ رکعات ہیں۔ اے بیٹے! جب نبی ﷺ کی عمر بڑھ گئی اور بدن بھاری ہوگیا تو آپ ﷺ نے سات رکعات وتر پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعات پڑھیں۔ اے بیٹے! نبی ﷺ جب بھی نماز پڑھتے اور پسند فرماتے تھے کہ اس پر ہمیشگی کی جائے۔ نبی ﷺ کا قیام اللیل اگر کسی وجہ سے رہ جاتا تو دن کو بارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ نبی ﷺ نے ایک رات میں مکمل قرآن کی تلاوت کی ہو، پوری رات کا قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینہ کے کامل روزے رکھے ہوں۔“ راوی کہتے ہیں پھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان کو خبر دی تو وہ کہنے لگے: ”وہ سچ فرماتی ہیں۔“ اور سعد کا ابتدائی معاملہ یہ تھا، ابن بشر کہتے ہیں: یعنی ان کا ابتدائی معاملہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور مدینہ کی طرف کوچ کیا تاکہ وہاں اپنی جائیداد بیچ کر ہتھیار اور گھوڑے خریدیں، پھر مرتے دم تک رومیوں سے جہاد کریں۔ پھر ان کی ملاقات اپنی قوم کے کچھ لوگوں سے ہوئی تو انہوں نے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ کی زندگی میں ان میں سے چھ آدمیوں نے یہی ارادہ کیا تھا تو نبی ﷺ نے ان کو منع کر دیا۔
سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا، پھر مجھے (ایک اور سوال) سوجھا۔ میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے رسول اللہ ﷺ کے قیام کے بارے میں خبر دیں۔ فرمانے لگیں: ”کیا تو نے پڑھا نہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] اے کپڑا اوڑھنے والے!“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ فرمایا: ”اس سورہ کی ابتدا میں اللہ نے رات کا قیام فرض قرار دیا تو نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم ایک سال تک اتنا قیام کرتے کہ ان کے پاؤں سوج جاتے۔ اللہ نے اس حکم کو آسمانوں میں بارہ مہینے روکے رکھا، پھر اس سورہ کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی، قیام اللیل نفل ہوگیا۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے نبی ﷺ کا وتر یاد آ گیا۔ میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے نبی ﷺ کے وتر کے بارے میں بتاؤ۔ فرمانے لگیں: ”ہم نبی ﷺ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو رات کا جتنا حصہ بیدار کرنا چاہتے کردیتے، آپ ﷺ مسواک اور وضو کرتے، پھر آپ ﷺ نو رکعات پڑھتے، صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے نبی ﷺ پر درود پڑھتے، پھر کھڑے ہوجاتے اور سلام نہیں پھیرتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نویں رکعت پڑھتے اور بیٹھ جاتے، پھر اللہ کی حمد بیان کرتے اور اس کے نبی ﷺ پر درود پڑھتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے۔ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے تھے، یہ گیارہ رکعات ہیں۔ اے بیٹے! جب نبی ﷺ کی عمر بڑھ گئی اور بدن بھاری ہوگیا تو آپ ﷺ نے سات رکعات وتر پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعات پڑھیں۔ اے بیٹے! نبی ﷺ جب بھی نماز پڑھتے اور پسند فرماتے تھے کہ اس پر ہمیشگی کی جائے۔ نبی ﷺ کا قیام اللیل اگر کسی وجہ سے رہ جاتا تو دن کو بارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ نبی ﷺ نے ایک رات میں مکمل قرآن کی تلاوت کی ہو، پوری رات کا قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینہ کے کامل روزے رکھے ہوں۔“ راوی کہتے ہیں پھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان کو خبر دی تو وہ کہنے لگے: ”وہ سچ فرماتی ہیں۔“ اور سعد کا ابتدائی معاملہ یہ تھا، ابن بشر کہتے ہیں: یعنی ان کا ابتدائی معاملہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور مدینہ کی طرف کوچ کیا تاکہ وہاں اپنی جائیداد بیچ کر ہتھیار اور گھوڑے خریدیں، پھر مرتے دم تک رومیوں سے جہاد کریں۔ پھر ان کی ملاقات اپنی قوم کے کچھ لوگوں سے ہوئی تو انہوں نے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ کی زندگی میں ان میں سے چھ آدمیوں نے یہی ارادہ کیا تھا تو نبی ﷺ نے ان کو منع کر دیا۔
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَنْبُوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " فِي الْمُزَّمِّلِ {قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِصْفَهُ} [المزمل: ٢] نَسَخَتْهُ الْآيَةُ الَّتِي فِيهَا {عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} وَنَاشِئَةُ اللَّيْلِ: أَوَّلُهُ، كَانَتْ صَلَاتُهُمْ لَأَوَّلِ اللَّيْلِ يَقُولُ: هُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا، مَا فَرَضَ اللهُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْإِنْسَانَ إِذَا نَامَ لَمْ يَدْرِ مَتَى يَسْتَيْقِظُ، وَقَوْلُهُ: {أَقْومُ قِيلًا} [المزمل: ٦] هُوَ أَجْدَرُ أَنْ يُفْقَهَ فِي الْقُرْآنِ، وَقَوْلُهُ {إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا} [المزمل: ٧] يَقُولُ: فَرَاغًا طَوِيلًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورہ المزمل کی آیت ﴿قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا * نِصْفَهُ﴾ [سورة المزمل: 2-3] ”رات کا قیام کریں مگر تھوڑا، آدھی رات“ کو منسوخ کر دیا اس آیت نے: ﴿عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ [سورة المزمل: 20] ”اللہ جانتا ہے کہ تم اس کو ہرگز نہ نبھا سکو گے، پس اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا جتنا قرآن تمہارے لیے آسان ہے اتنا ہی پڑھو۔“ یہ ان کی ابتدائی رات کی نماز تھی۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ زیادہ مناسب ہے کہ تم شمار کر سکو جو اللہ نے رات کی نماز سے تمہارے اوپر فرض کیا ہے۔ جب انسان سو جاتا ہے، وہ نہیں جانتا وہ کب بیدار ہو گا، اور اللہ کا فرمان ﴿أَقْوَمُ قِيلًا﴾ [سورة المزمل: 6] ”اور بات کو بہت درست کر دینے والا ہے“ یہ زیادہ لائق ہے کہ وہ قرآن کو سمجھ سکے، اور اللہ کا فرمان ﴿إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا﴾ [سورة المزمل: 7] ”یقیناً دن میں آپ کو بہت مصروفیت رہتی ہے“ سے مراد «سَبْحًا طَوِيلًا» ”زیادہ فراغت“ ہے۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " لَمَّا نَزَلَ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا، فَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا قَرِيبٌ مِنْ سَنَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سماک حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ جب سورہ مزمل کا ابتدائی حصہ نازل ہوا تو لوگ رات کا قیام ماہ رمضان کی طرح کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورہ مزمل کا آخری حصہ نازل ہوا۔ سورہ مزمل کے ابتدائی حصہ اور آخری حصہ کے نزول میں تقریباً ایک سال کا وقفہ ہے۔