حدیث نمبر: 4639
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَنْبُوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " فِي الْمُزَّمِّلِ {قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِصْفَهُ} [المزمل: ٢] نَسَخَتْهُ الْآيَةُ الَّتِي فِيهَا {عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} وَنَاشِئَةُ اللَّيْلِ: أَوَّلُهُ، كَانَتْ صَلَاتُهُمْ لَأَوَّلِ اللَّيْلِ يَقُولُ: هُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا، مَا فَرَضَ اللهُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْإِنْسَانَ إِذَا نَامَ لَمْ يَدْرِ مَتَى يَسْتَيْقِظُ، وَقَوْلُهُ: {أَقْومُ قِيلًا} [المزمل: ٦] هُوَ أَجْدَرُ أَنْ يُفْقَهَ فِي الْقُرْآنِ، وَقَوْلُهُ {إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا} [المزمل: ٧] يَقُولُ: فَرَاغًا طَوِيلًا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورہ المزمل کی آیت ﴿قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا * نِصْفَهُ﴾ [سورة المزمل: 2-3] ”رات کا قیام کریں مگر تھوڑا، آدھی رات“ کو منسوخ کر دیا اس آیت نے: ﴿عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ [سورة المزمل: 20] ”اللہ جانتا ہے کہ تم اس کو ہرگز نہ نبھا سکو گے، پس اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا جتنا قرآن تمہارے لیے آسان ہے اتنا ہی پڑھو۔“ یہ ان کی ابتدائی رات کی نماز تھی۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ زیادہ مناسب ہے کہ تم شمار کر سکو جو اللہ نے رات کی نماز سے تمہارے اوپر فرض کیا ہے۔ جب انسان سو جاتا ہے، وہ نہیں جانتا وہ کب بیدار ہو گا، اور اللہ کا فرمان ﴿أَقْوَمُ قِيلًا﴾ [سورة المزمل: 6] ”اور بات کو بہت درست کر دینے والا ہے“ یہ زیادہ لائق ہے کہ وہ قرآن کو سمجھ سکے، اور اللہ کا فرمان ﴿إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا﴾ [سورة المزمل: 7] ”یقیناً دن میں آپ کو بہت مصروفیت رہتی ہے“ سے مراد «سَبْحًا طَوِيلًا» ”زیادہ فراغت“ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4639