حدیث نمبر: 4641
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا، فَقَالَ: " أَلَا تُصَلِّيَانِ؟ " فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَيَقُولُ: {وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: ٥٤] رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم دونوں رات کو نماز نہیں پڑھتے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں بیدار کرنا چاہے تو ہمیں بیدار کر دیتا ہے، جب میں نے جواب دیا تو آپ ﷺ چلے گئے، لیکن آپ ﷺ نے کچھ جواب نہیں دیا اور میں نے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے اور اپنے ہاتھ اپنی ران پر مار رہے تھے: ”﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [سورة الكهف: 54]“ ”انسان بہت زیادہ جھگڑالو ہے۔“
حدیث نمبر: 4642
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا أَعْزُبَ، فَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ: فَرَأَيْتُ كَأَنَ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي قَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: انْطَلِقْ بِهِ إِلَى النَّارِ قَالَ: فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ النَّارِ قَالَ: فَلَقِيَنَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي: لَمْ تُرَعْ، قَالَ: فَانْطَلَقُوا بِي حَتَّى وَقَفْنَا عَلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَيِ الْبِيرِ، قَالَ: وَرَأَيْتُ فِيهَا رِجَالًا أَعْرِفُهُمْ قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهَا فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللهِ لَوْ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ " قَالَ سَالِمٌ: فَكَانَ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مَحْمُودٍ، وَإِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں جب کوئی آدمی خواب دیکھتا تو اپنا خواب نبی ﷺ کے سامنے بیان کرتا۔ وہ فرماتے ہیں کہ میری بھی تمنا تھی کہ میں خواب دیکھوں اور نبی ﷺ کے سامنے بیان کروں، میں کنوارہ نوجوان تھا اور مسجد میں سوتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ دو فرشتے میرے پاس آئے، ایک نے کہا: ”اس کو آگ کی طرف لے چلو۔“ میں نے کہنا شروع کر دیا: ”میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جہنم سے۔“ پھر ہمیں دوسرا فرشتہ ملا اس نے مجھے کہا: ”گھبراؤ نہیں“، وہ مجھے جہنم کی طرف لے کر چلے اور ہم جہنم کے کنارے پر کھڑے تھے، اس کی دو منڈیریں تھیں جیسے کنوئیں کی ہوتی ہیں، میں نے ان میں ایسے مرد دیکھے جن کو میں جانتا تھا۔ صبح کے وقت میں نے اپنا خواب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو سنایا تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کو سنایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”عبداللہ کتنا اچھا آدمی ہے اگر وہ رات کا قیام کرے۔“ سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو بہت کم سوتے تھے۔
حدیث نمبر: 4643
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ، كُلُّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ مَكَانَهَا عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَإِنْ ذَكَرَ رَبَّهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ ⦗٧٠٦⦘ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہ لگا دیتا ہے۔ ہر گرہ لگاتے وقت وہ کہتا ہے کہ رات بڑی لمبی ہے تو سو جا، جب وہ بیدار ہوتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس کی گرہ کھل جاتی ہے۔ اگر وضو کرلے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور انسان صبح خوشی کی حالت میں کرتا ہے۔ اگر وہ یہ کام نہ کرے تو صبح کرتا ہے اور وہ بالکل سست ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4644
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ (ح) وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رحم فرمائے اس شخص پر جو رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتا ہے، اگر وہ انکار کرے تو اس پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے، اور اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتی ہے اور اپنے خاوند کو بیدار کرتی ہے، اگر وہ بیدار ہونے سے انکار کر دے تو اس کے چہرے پر چھینٹے مارتی ہے۔“
حدیث نمبر: 4645
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِهْرَجَانِيُّ ابْنُ السِّقَاءِ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ أَخُو الْحَسَنِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ثنا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا كُتِبَا لَيْلَتَئِذٍ مِنَ الذَّاكِرِينَ اللهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص رات کو بیدار ہو اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے اور دونوں اکٹھے نماز پڑھیں، تو ان دونوں کو کثرت سے ذکر کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4646
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَلَا ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، جَعَلَهُ فِي كَلَامِ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: فَأَرَاهُ ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدِيثُ سُفْيَانَ مَوْقُوفٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ مَرْفُوعًا نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 4647
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: لَمَّا أَنْ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَانْجَفَلَ النَّاسُ قَبْلَهُ، فَقَالُوا: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجِئْتُ فِي النَّاسِ؛ لَأَنْظُرَ إِلَى وَجْهِهِ، فَلَمَّا أَنْ رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ ⦗٧٠٧⦘ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ سَمِعْتُ مِنْهُ أَنْ قَالَ: " يَأَيُّهَا النَّاسُ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ آئے اور کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں بھی لوگوں کے ساتھ مل کر آیا، تاکہ آپ ﷺ کی زیارت کروں۔ جب میں نے آپ ﷺ کا چہرہ دیکھا تو میں نے پہچان لیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا، سب سے پہلی جو بات میں نے نبی ﷺ سے سنی وہ یہ ہے: ”اے لوگو! کھانا کھلاؤ، سلام کرو، صلہ رحمی کرو اور رات کو نماز پڑھو، جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“
حدیث نمبر: 4648
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزَّاهِدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي أَمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأَبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَهُوَ قُرْبَةٌ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ، وَمَكْفَرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ، وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم قیام اللیل کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کی عادت ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ، گناہوں کا کفارہ ہے اور گناہوں سے روکتی ہے۔“
حدیث نمبر: 4649
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا خَالِدٌ أَبُو عَبْدِ اللهِ (ح) وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا مَكِّيٌّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ خَالِدُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ، فَإِنَّهُ دَأَبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَقُرْبَةٌ إِلَى اللهِ، وَتَكْفِيرٌ لِلسَّيِّئَاتِ، وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ، وَمَطْرَدَةٌ لِلدَّاءِ عَنِ الْجَسَدِ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ الْقَطَّانِ " وَإِنَّ قِيَامَ اللَّيْلِ قُرْبَةٌ إِلَى اللهِ تَعَالَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم رات کے قیام کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کی عادت ہے اور اللہ کے قرب کا ذریعہ، غلطیوں کا کفارہ ہے، گناہوں سے روکتی ہے اور جسم سے بیماریوں کو دور رکھنے کا سبب ہے۔“
حدیث نمبر: 4650
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ (ح) وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْهَاشِمُ بْنِ الْقَاسِمِ، ثنا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ بِلَالٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ؛ فَإِنَّهُ دَأَبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَإِنَّ قِيَامَ اللَّيْلِ قُرْبَةٌ إِلَى اللهِ تَعَالَى، وَتَكْفِيرٌ لِلسَّيِّئَاتِ، وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ وَمَطْرَدَةٌ لِلدَّاءِ عَنِ الْجَسَدِ ".
حافظ ثناء اللہ
بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم رات کے قیام کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی عادت ہے اور اللہ کے قرب کا ذریعہ، غلطیوں کا کفارہ ہے، گناہوں سے روکتی ہے اور جسم سے بیماریوں کو دور رکھنے کا سبب ہے۔“
حدیث نمبر: 4651
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " فَضْلُ صَلَاةِ اللَّيْلِ عَلَى صَلَاةِ النِّهَارِ كَفَضْلِ صَدَقَةِ السِّرِّ عَلَى صَدَقَةِ الْعَلَانِيَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رات کی نماز کی فضیلت دن کی نماز پر ایسی ہے جیسے پوشیدہ صدقہ کرنے کی فضیلت جہری صدقہ کرنے پر ہے۔“