السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: في قيام الليل باب: قیام اللیل (رات کی نماز) کے بیان میں
حدیث نمبر: 4640
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " لَمَّا نَزَلَ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا، فَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا قَرِيبٌ مِنْ سَنَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
سماک حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ جب سورہ مزمل کا ابتدائی حصہ نازل ہوا تو آپ ﷺ رات کا قیام ماہ رمضان کی طرح کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورہ مزمل کا آخری حصہ نازل ہوا۔ سورہ مزمل کے ابتدائی حصہ اور آخری حصہ کے نزول میں ایک سال کا وقفہ ہے۔