کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: رمضان کے مہینے میں قیام (تراویح) کی رکعات کی تعداد کے بارے میں جو مروی ہے اس کا بیان
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ (ح) وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِ رَمَضَانَ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنِيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي " لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی ﷺ کی نماز رمضان میں کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھیں۔ آپ ﷺ چار رکعات پڑھتے، آپ ان کے عمدہ اور لمبی ہونے کا تو کچھ نہ پوچھیں! پھر آپ ﷺ چار رکعات پڑھتے اور ان کی عمدگی اور طوالت کا کوئی حساب نہیں۔ پھر آپ ﷺ تین رکعات پڑھتے۔ میں کہتی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ﷺ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! میری آنکھیں سو جاتی ہیں، لیکن میرا دل جاگتا ہے۔“
أنبأ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي غَيْرِ جَمَاعَةٍ بِعِشْرِينَ رَكْعَةٍ، وَالْوِتْرِ " تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَبْسِيُّ الْكُوفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ رمضان میں جماعت کے علاوہ بیس رکعات اور وتر پڑھتے تھے۔
اسے صرف ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان عبسی کوفی نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔
اسے صرف ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان عبسی کوفی نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔
أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ابْنِ أُخْتِ السَّائِبِ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ قَالَ: " أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَكَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ حَتَّى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَى الْعِصِيِّ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، وَمَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّا فِي فُرُوعِ الْفَجْرِ " هَكَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعات کا قیام کروایا کریں اور قاری سو سو آیات والی سورتیں (مئین) پڑھتا تو ہم لمبے قیام کی وجہ سے اپنی لاٹھیوں پر سہارا لیتے اور ہم فجر طلوع ہونے پر واپس پلٹتے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ فَنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ بِالدَّامَغَانِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السُّنِّيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ⦗٦٩٩⦘ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: " كَانُوا يَقُومُونَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً " قَالَ: " وَكَانُوا يَقْرَءُونَ بِالْمَئِينِ، وَكَانُوا يَتَوَكَّئُونَ عَلَى عِصِيِّهِمْ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ شِدَّةِ الْقِيَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ رمضان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بیس رکعات کا قیام کرتے تھے اور وہ سو سو آیات والی سورتیں (مئین) پڑھتے تھے، اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگ لمبے قیام کی وجہ سے اپنی لاٹھیوں پر سہارا لیتے تھے۔
أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ قَالَ: " كَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَمَضَانَ بِثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ رَكْعَةً " وَيُمْكِنُ الْجَمْعُ بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُومُونَ بِإِحْدَى عَشْرَةَ، ثُمَّ كَانُوا يَقُومُونَ بِعِشْرِينَ وَيُوتِرُونَ بِثَلَاثٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن رومان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں قیامِ رمضان ۲۳ رکعات کیا کرتے تھے۔
دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ پہلے وہ گیارہ رکعات قیام کیا کرتے تھے، پھر انہوں نے بیس رکعات قیام شروع کر دیا اور آخر میں تین وتر پڑھتے تھے۔
دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ پہلے وہ گیارہ رکعات قیام کیا کرتے تھے، پھر انہوں نے بیس رکعات قیام شروع کر دیا اور آخر میں تین وتر پڑھتے تھے۔
وَأنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو الْخَصِيبِ قَالَ: " كَانَ يَؤُمُّنَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ فِي رَمَضَانَ فَيُصَلِّي خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ عِشْرِينَ رَكْعَةً " وَرُوِّينَا عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّهُمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ " وَفِي ذَلِكَ قُوَّةٌ لِمَا.
حافظ ثناء اللہ
ابو الحصیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سوید بن غفلہ رحمہ اللہ رمضان میں ہماری امامت کرواتے تھے اور پانچ مرتبہ میں بیس رکعات پڑھاتے تھے (یعنی اکٹھی چار چار رکعات)۔
(ب) شیتر بن شکل رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں، وہ رمضان میں ان کی امامت کرواتے تو بیس رکعات تراویح اور تین رکعات وتر پڑھتے تھے۔
(ب) شیتر بن شکل رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں، وہ رمضان میں ان کی امامت کرواتے تو بیس رکعات تراویح اور تین رکعات وتر پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدَكَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " دَعَا الْقُرَّاءَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَ مِنْهُمْ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ عِشْرِينَ رَكْعَةً " قَالَ: وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُوتِرُ بِهِمْ " وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَلِيٍّ وَأَمَّا التَّرَاوِيحُ فَفِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
ابوعبدالرحمن سلمی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رمضان میں قراء کو بلاتے اور ان میں سے کسی ایک کو حکم دیتے، وہ لوگوں کو بیس رکعات پڑھاتا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ وتر ان کے ساتھ پڑھتے تھے۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ فَنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى السُّنِّيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مَرْوَانَ السُّلَمِيُّ، أنبأ الْحَسَنِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْبَقَّالِ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ " أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يُصَلِّيَ، بِالنَّاسِ خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ عِشْرِينَ رَكْعَةً " ⦗٧٠٠⦘ وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ ضَعْفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو الحسناء کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ پانچ وقفوں میں لوگوں کو بیس رکعات پڑھا دے۔
اس سند میں ضعف ہے۔
اس سند میں ضعف ہے۔
وَأنبأ ابْنُ فَنْجَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى السُّنِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبُزُورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سُحَيْمٍ الْكَاهِلِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: " كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرَوِّحُنَا فِي رَمَضَانَ، يَعْنِي بَيْنَ التَّرْوِيحَتَيْنِ قَدْرَ مَا يَذْهَبُ الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَى سَلْعٍ " كَذَا قَالَ، وَلَعَلَّهُ أَرَادَ مَنْ يُصَلِّي بِهُمُ التَّرَاوِيحَ بِأَمْرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رمضان میں ہمیں راحت کے لیے وقت دیتے، یعنی دو رکعت تراویح کے درمیان اتنا وقفہ دیتے کہ کوئی مسجد سے نکل کر «سَلْع» پہاڑی تک چلا جائے۔ شاید ان کی مراد وہ ہو جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حکم سے تراویح پڑھتا ہے۔
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ بِطُوسَ أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْكُوفِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ الْمَوْصِلِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي اللَّيْلِ، ثُمَّ يَتَرَوَّحُ، فَأَطَالَ حَتَّى رَحِمْتُهُ فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ، وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ: " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا؟ " تَفَرَّدَ بِهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَقَوْلُهُ: ثُمَّ يَتَرَوَّحُ إِنْ ثَبَتَ فَهُوَ أَصْلٌ فِي تَرَوُّحِ الْإِمَامِ فِي صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عطا رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو چار رکعات پڑھا کرتے تھے، پھر آرام کرتے، پھر آپ ﷺ رکعت اتنی لمبی کر دیتے کہ مجھے آپ پر رحم آجاتا، میں کہتی: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں، اللہ نے آپ ﷺ کے پہلے اور بعد والے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں! آپ ﷺ فرماتے: ”کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں؟“
اسے صرف مغیرہ بن زیاد نے روایت کیا ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔
اسے صرف مغیرہ بن زیاد نے روایت کیا ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔