کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ماہِ رمضان کے قیام میں ان (صحابہ) کی قراءت کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 4624
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ بِالدَّامَغَانِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرَوَيْهِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: " دَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِثَلَاثِ قُرَّاءٍ فَاسْتَقْرَأَهُمْ، فَأَمَرَ أَسْرَعَهُمْ قِرَاءَةً أَنْ يَقْرَأَ لِلنَّاسَ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَأَمَرَ أَوْسَطَهُمْ أَنْ يَقْرَأَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ، وَأَمَرَ أَبْطَأَهُمْ أَنْ يَقْرَأَ لِلنَّاسِ عِشْرِينَ آيَةً " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تین قراء کو بلوایا اور ان کی قرأت سنی، ان میں سے جلدی قرأت کرنے والے سے فرمایا کہ وہ تیس آیات کی تلاوت سے لوگوں کو قیام کروائے اور درمیانی قرأت کرنے والے سے کہا کہ وہ پچیس آیات کی تلاوت کرے اور سب سے آہستہ پڑھنے والے سے کہا کہ وہ بیس آیات کی تلاوت کرے۔
حدیث نمبر: 4625
أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ يَقُولُ: " مَا أَدْرَكْتُ النَّاسَ إِلَّا وَهُمْ يَلْعَنُونَ الْكَفَرَةَ فِي رَمَضَانَ " قَالَ: " فَكَانَ الْقَارِئُ يَقُومُ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، فَإِذَا قَامَ بِهَا فِي اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً رَأَى النَّاسُ أَنَّهُ قَدْ خَفَّفَ ".
حافظ ثناء اللہ
داؤد بن حصین رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن ہرمز رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ لوگ صرف رمضان میں کافروں پر لعنت کرتے تھے، قاری آٹھ رکعات میں سورہ بقرہ پڑھا کرتا تھا اور جب قاری بارہ رکعات میں سورہ بقرہ مکمل کرتے تو لوگ اس قیام کو ہلکا محسوس کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4626
وَبِإِسْنَادِهِ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: " كُنَّا نَنْصَرِفُ مِنَ الْقِيَامِ فِي رَمَضَانَ فَنَسْتَعْجِلُ الْخَادِمَ بِالطَّعَامِ مَخَافَةَ الْفَجْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ ہم قیامِ رمضان سے واپس پلٹتے تو طلوعِ فجر کے خوف سے خادم سے جلدی کھانا طلب کیا کرتے تھے۔