کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ اسے باجماعت پڑھنا اس شخص کے لیے زیادہ افضل ہے جو حافظِ قرآن نہ ہو
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمَانَ، وَبَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، أَنَّ ثَعْلَبَةَ بْنَ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ فَرَأَى نَاسًا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ يُصَلُّونَ، فَقَالَ: " مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ " قَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَؤُلَاءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَقْرَأُ وَهُمْ مَعَهُ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ قَالَ: " قَدْ أَحْسَنُوا، أوَ قَدْ أَصَابُوا " ولَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ لَهُمْ وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبُ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمَانَ الْحَجْرِيُّ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ الْكَلِمَةَ وَنَحْوَهَا قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيُّ مِنَ الطَّبَقَةِ الْأُولَى مِنْ تَابِعِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَقَدْ أَخْرَجَهُ ابْنُ مَنْدَهْ فِي الصَّحَابَةِ، وَقِيلَ لَهُ رِوَايَةٌ، وَقِيلَ: سِنُّهُ سِنُّ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ أُسِرَا يَوْمَ قُرَيْظَةَ وَلَمْ يُقْتَلَا وَلَيْسَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ إِلَّا أَنَّهُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ثعلبہ بن ابی مالک قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ رمضان کی ایک رات نکلے، آپ ﷺ نے لوگوں کو دیکھا، وہ مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟“ کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن یاد نہیں ہے اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے اچھا کیا“ یا فرمایا: ”انہوں نے درست کام کیا۔“ اور آپ ﷺ نے ان کے لیے اسے ناپسند نہیں فرمایا۔
یہ حسن مرسل روایت ہے۔ ثعلبہ بن ابی مالک قرظی اہلِ مدینہ کے تابعین کے پہلے طبقے سے ہیں، ابن مندہ نے انہیں صحابہ میں ذکر کیا ہے، کہا گیا ہے کہ ان کی (نبی ﷺ سے) روایت ہے، اور کہا گیا ہے کہ ان کی عمر عطیہ قرظی کے برابر تھی، دونوں قریظہ کے دن قید ہوئے اور قتل نہیں کیے گئے، انہیں صحابیت حاصل نہیں۔ یہ روایت موصول سند سے بھی مروی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔
یہ حسن مرسل روایت ہے۔ ثعلبہ بن ابی مالک قرظی اہلِ مدینہ کے تابعین کے پہلے طبقے سے ہیں، ابن مندہ نے انہیں صحابہ میں ذکر کیا ہے، کہا گیا ہے کہ ان کی (نبی ﷺ سے) روایت ہے، اور کہا گیا ہے کہ ان کی عمر عطیہ قرظی کے برابر تھی، دونوں قریظہ کے دن قید ہوئے اور قتل نہیں کیے گئے، انہیں صحابیت حاصل نہیں۔ یہ روایت موصول سند سے بھی مروی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أُنَاسٌ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " مَا هَؤُلَاءِ؟ " فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ أُنَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَابُوا، وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو دیکھا چند لوگ رمضان میں مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ لوگوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن یاد نہیں ہے اور وہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے درست کام کیا اور انہوں نے اچھا کیا۔“
امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے، مسلم بن خالد ضعیف ہے۔
امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے، مسلم بن خالد ضعیف ہے۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْفَضْلِ الْكِنْدِيُّ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عُمَرَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قَالَتْ: عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " ⦗٦٩٨⦘ كُنَّا نَأْخُذُ الصِّبْيَانَ مِنَ الْكُتَّابِ؛ لِيَقُومُوا بِنَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَنَعْمَلَ لَهُمُ الْقَلِيَّةَ، وَالْخِشْكِنَانْجَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم کتابت سیکھنے والے بچوں کو بلا لیتیں، تاکہ وہ ہمارے ساتھ رمضان کے مہینے کا قیام کریں، پھر ہم ان کے لیے بھنا ہوا گوشت اور حلوا تیار کرتیں۔