السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما روي في عدد ركعات القيام في شهر رمضان باب: رمضان کے مہینے میں قیام (تراویح) کی رکعات کی تعداد کے بارے میں جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 4622
وَأنبأ ابْنُ فَنْجَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى السُّنِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبُزُورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سُحَيْمٍ الْكَاهِلِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: " كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرَوِّحُنَا فِي رَمَضَانَ، يَعْنِي بَيْنَ التَّرْوِيحَتَيْنِ قَدْرَ مَا يَذْهَبُ الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَى سَلْعٍ " كَذَا قَالَ، وَلَعَلَّهُ أَرَادَ مَنْ يُصَلِّي بِهُمُ التَّرَاوِيحَ بِأَمْرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رمضان میں ہمیں راحت کے لیے وقت دیتے، یعنی دو رکعت تراویح کے درمیان اتنا وقفہ دیتے کہ کوئی مسجد سے نکل کر «سَلْع» پہاڑی تک چلا جائے۔ شاید ان کی مراد وہ ہو جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حکم سے تراویح پڑھتا ہے۔